خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان زلزلے سے لرز اٹھے، شدت کتنی ریکارڈ کی گئی؟


خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اتوار کے روز خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں بشمول پشاور، سوات، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، مردان، بٹ گرام، دیربالا، اپر اور لوئر دیر، ہنگو، بونیر، پاراچنار اور اورکزئی سمیت متعدد علاقوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں  دیامر، چلاس شہر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی جب کہ اس کا مرکز پاک افغان سرحد سے 51 کلو میٹر دور تھا۔
زلزلے کے باعث عوام میں خوف ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
زلزلہ کیوں اور کیسے آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔
پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles