فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں ایپل کی آمد کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کمپنی کے پہلے فولڈ ایبل فون ’آئی فون ڈو‘ کو ابتدائی دنوں میں ہی مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ تقریباً دو ہزار ڈالر قیمت والے اس فون کے جدید ڈیزائن اور بڑی اسکرین کو سراہا جا رہا ہے، تاہم اسکرین ٹوٹنے کی شکایات، زیادہ وزن اور کیمروں کی کارکردگی نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق آئی فون ڈو 23 اکتوبر کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’انگیجٹ‘ نے اسے 10 میں سے 8.8 نمبر دیے، جبکہ ’دی ورج‘ اور ’وائرڈ‘ نے 7 نمبر دیے۔ ناقدین نے اس کے فولڈنگ نظام اور ڈیزائن کو سراہا، لیکن بعض خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ فون خریدنے کے صرف چھ گھنٹے بعد اس کی اندرونی اسکرین ٹوٹ گئی۔ صارف کے مطابق، فون کھولتے وقت اندرونی قبضے کے قریب کچھ غیر معمولی محسوس ہوا اور مزید کھولنے پر چٹخنے کی آواز کے ساتھ اسکرین ٹوٹ گئی۔
صارف کا کہنا تھا کہ فون کی اسکرین یا قبضے پر کسی ٹکراؤ یا بیرونی نقصان کے آثار نہیں تھے۔ اس نے ایپل اسٹور سے رابطہ کیا، جہاں اسے نیا فون دے دیا گیا۔

دیگر صارفین نے بھی اسکرین کے اسی حصے میں ٹوٹنے یا کریک پڑنے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ تاہم، یہ ابتدائی شکایات ہیں اور فی الحال ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسئلہ بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ ایپل کا باضابطہ مؤقف بھی رپورٹ میں شامل نہیں۔
آئی فون ڈو کھلنے پر 7.6 انچ کی اندرونی اسکرین فراہم کرتا ہے، جس پر روشنی کا عکس کم کرنے کے لیے خاص تہہ استعمال کی گئی ہے۔ اس کا قبضہ ہمواری سے کھلتا اور بند ہوتا ہے، جبکہ فون کو مختلف زاویوں پر بھی رکھا جا سکتا ہے۔
تاہم، اسکرین کے درمیان موجود شکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بعض زاویوں سے یہ دکھائی دیتی ہے اور انگلی پھیرنے پر محسوس بھی ہوتی ہے۔ عکس کم کرنے والی تہہ کے باعث رنگ بھی روایتی مہنگے آئی فونز کے مقابلے میں کم شوخ دکھائی دے سکتے ہیں۔

فون کا وزن 254 گرام اور بند حالت میں موٹائی 11.3 ملی میٹر ہے، جسے بعض ناقدین نے زیادہ قرار دیا۔ اس کی 5.4 انچ کی بیرونی اسکرین پر بھی ویب سائٹس اور ایپس استعمال کرتے ہوئے جگہ کم محسوس ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، بڑی اسکرین کے باوجود فون میں آئی پیڈ جیسی کام کرنے کی سہولتیں موجود نہیں۔
آئی فون ڈو میں بیک وقت دو ایپلی کیشنز چلائی جا سکتی ہیں، لیکن صارف دونوں کے سائز میں اپنی مرضی سے تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اسکرین دونوں ایپس کے لیے برابر حصوں میں تقسیم ہوتی ہے اور تیسری ایپ کو الگ تیرتی ہوئی ونڈو میں کھولنے کی سہولت بھی موجود نہیں۔
اس کے علاوہ، کئی دوسری کمپنیوں کی ایپس ابھی فون کی بڑی اسکرین کے مطابق مکمل طور پر تیار نہیں۔ تاہم، بعض ایپس کو اپ ڈیٹس ملنے سے اس حوالے سے بہتری کی توقع ہے۔
کیمروں کے معاملے میں بھی فون کو تنقید کا سامنا ہے۔ اس کا مرکزی اور الٹرا وائیڈ کیمرا مجموعی طور پر اچھا قرار دیا گیا، لیکن کم روشنی میں کارکردگی آئی فون 18 پرو سے کمزور بتائی گئی۔ اندرونی اسکرین کے نیچے موجود 4 میگا پکسل کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر کے معیار پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔
اس کے باوجود، فولڈنگ ڈیزائن کی بدولت صارف پچھلے کیمروں سے سیلفی لیتے ہوئے بیرونی اسکرین پر اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے۔
ٹامز گائیڈ کے مطابق، مسلسل 5G براؤزنگ کے ٹیسٹ میں اس کی بیٹری 13 گھنٹے اور 20 منٹ چلی۔ یہ دورانیہ سام سنگ کے گلیکسی زیڈ فولڈ 8 کے 10 گھنٹے اور 6 منٹ سے زیادہ، لیکن آئی فون 18 پرو میکس کے 17 گھنٹے اور 31 منٹ سے کم تھا۔ عام استعمال میں فون پورا دن چل سکتا ہے، تاہم بڑی اسکرین کا مسلسل استعمال بیٹری تیزی سے ختم کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، آئی فون ڈو کا ڈیزائن اور فولڈنگ نظام اسے نمایاں بناتے ہیں، لیکن زیادہ قیمت، وزن، کیمروں اور سافٹ ویئر کی حدود اسے ہر صارف کے لیے موزوں انتخاب نہیں بناتیں۔ ٹامز گائیڈ نے اسے بہترین ڈیزائن والے فولڈ ایبل فونز میں شمار کیا، جبکہ ’9 ٹو 5 میک‘ کے مطابق، زیادہ تر صارفین کے لیے روایتی آئی فون زیادہ عملی انتخاب ہے۔
اسکرین ٹوٹنے کی شکایات کے پھیلاؤ اور وجوہات کا تعین کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، نیویارک پوسٹ نے ان شکایات پر ایپل سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔