متنازع علاقے میں کئی مقامات پر بھارتی اور چینی فوجیوں میں تصادم

بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں چینی اور بھارتی افواج کے درمیان حالیہ دنوں میں متعدد مقامات پر ٹکراؤ ہوا ہے، جس کا اعتراف انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے کیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے معاملے پر وزیرِاعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق انڈو تبتن بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے راجستھان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان ٹکراؤ ہوا، جس کی صورت حال اب بھی برقرار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تعینات شوریہ کمانڈوز نے مثالی کارکردگی دکھائی ہے اور جلد اس فورس کی مکمل بٹالین تشکیل دی جائے گی۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق اروناچل پردیش کے علاقے تاکسنگ کے قریب جولائی سے دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی فوجی بھارتی دعوے کے مطابق اس کے زیرِانتظام علاقے میں 6 سے 7 کلومیٹر اندر تک پہنچے اور وہاں خیمے نصب کیے۔

ڈی جی شتروجیت کپور نے کہا کہ چین کی فوجی صلاحیت میں اضافے کے باعث روایتی انداز میں اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے جدید جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرونز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی صورت حال کے بارے میں عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ کانگریس رہنماؤں نے معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے اور حکومت سے وضاحت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے براہِ راست حالیہ ٹکراؤ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس پر دعویٰ کرتا ہے، جبکہ بھارت اس ریاست کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles