
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دنیا بھر میں امریکی سفارت کاروں اور سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے اپنے منصوبے تیز کردیے ہیں، جبکہ بعض حکام کا خیال ہے کہ ایران کے ایجنٹس امریکا کے اندر بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
عرب خبر رساں ادارے ’العربیہ اردو‘ کے مطابق، امریکی حکام نے اُن انٹیلی جنس معلومات کی تصدیق کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا کے اندر ایران کے متعدد ایجنٹس موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان خطرات کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں واقع چار امریکی سفارت خانوں سے غیر ضروری عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم آپریشنل سرگرمیاں محدود کرنے کے باوجود یہ سفارت خانے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے کھلے رہیں گے۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین کو ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات پر باقاعدگی سے بریفنگ دی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک حساس خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد ذرائع سے موصول ہونے والے انٹیلی جنس تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی شہریوں اور سفیروں کو قتل کرنے کے ایرانی منصوبے اعلیٰ مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
العربیہ کے مطابق، تین ہفتوں سے مسلسل ان معلومات کا جائزہ لینے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سمیت مختلف خطوں میں سفارتی عملے کو ہدف بنانے کی کوششیں اب زیادہ واضح اور تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہیں۔
تاہم ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکا کے اندر یا عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی تہران کی صلاحیت فی الوقت محدود ہے، اور نقصان پہنچانے کے ایرانی عزائم اس کی حقیقی عملی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس ادارے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔