دو اسرائیل فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے متعدد گھر منہدم


مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے متعدد مکانات مسمار کرنا شروع کردیے اور علاقے کے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ فائرنگ کے واقعے میں تین مزید اسرائیلی فوجی بھی معمولی زخمی ہوئے، جبکہ حملہ کرنے والے دونوں فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعے کو دو فلسطینی مسلح افراد نے الخلیل میں ایک فوجی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فوج نے واقعے کے بعد شہر میں سخت ناکہ بندی اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کردیں۔
اسرائیلی فوج اور سکیورٹی ایجنسی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ الخلیل اور حَلحول کے بعض علاقوں میں سکیورٹی اقدامات کیے جارہے ہیں، جن میں ناکہ بندی، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مشتبہ افراد کی تلاش شامل ہے۔
فورسز نے حملہ آوروں کے زیر استعمال گاڑی بھی برآمد کی، جس میں بڑی مقدار میں گولہ بارود موجود تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق علاقے میں کئی روز تک انسدادِ دہشت گردی آپریشن جاری رہے گا۔ رہائشیوں کو تین مخصوص راستوں سے علاقے سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم انہیں سکیورٹی جانچ اور پوچھ گچھ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں موجود ایسی غیر قانونی تعمیرات مسمار کی جارہی ہیں جو ان کے بقول سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ فوج حملہ آوروں کے علاقے کو مکمل طور پر تبدیل کرے گی، گھروں کی تلاشی لے گی اور وہاں سے ملنے والے ہتھیاروں اور مبینہ عسکری ڈھانچے کے خلاف کارروائی کرے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسیلم نے الخلیل کے فلسطینی محلے سے رہائشیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔
تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا کہ اسرائیلی قیادت فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور مکانات کی تباہی کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعے کی دوپہر تک الخلیل کے علاقے فرش الہوا میں مکانات مسمار کرنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ سی این این کو موصول ہونے والی ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے پانچ منٹ کی مہلت دیتا دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے فائرنگ کے واقعے کو سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی فوری کارروائی سے مزید جانی نقصان سے بچنے میں مدد ملی۔ ان کے مطابق برآمد ہونے والا گولہ بارود بڑے پیمانے پر حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles