زندہ رہنے کے لیے اپنا پاؤں کاٹنے والے یوکرینی فوجی کے ڈرون سے ڈرامائی ریسکیو کی کہانی

روس کے خلاف جنگ میں ایک یوکرینی فوجی نے زندہ رہنے کے لیے اپنا پاؤں خود کاٹ لیا، جس کے بعد وہ تقریباً 8 ماہ تک تباہ شدہ اسکول کے نیچے بنے ایک تنگ گڑھے میں پناہ لیے رہا۔ بالآخر 4 اکتوبر کو ایک بڑے چھ پروں والے ڈرون کی مدد سے اسے فضائی راستے سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ یوکرینی فوجی حکام کے مطابق یہ کسی فوجی کو بچانے کے لیے فضائی ڈرون کے استعمال کا پہلا معلوم واقعہ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 49 سالہ یوکرینی فوجی کوستیانتین ولاسینکو روسی ڈرون حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد اس حالت میں پہنچ گیا تھا کہ اس کے لیے خود حرکت کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ اس کا بایاں پاؤں حملے میں تباہ ہوگیا تھا، جبکہ دائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث وہ بری طرح زخمی تھا۔

حملے کے تقریباً تین ماہ بعد اس نے زندہ رہنے کی امید میں اپنی چھری سے دایاں پاؤں بھی خود کاٹ دیا اور خون روکنے کے لیے ٹانگ پر کس کر پٹی باندھ لی۔ اس کے بعد وہ تباہ شدہ اسکول میں بوائلر کے نیچے بنے ایک چھوٹے سے گڑھے میں رہنے پر مجبور ہوگیا۔

ولاسینکو نے اسپتال میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تو خود کو پہلے ہی دفن سمجھ چکا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اب کوئی امید باقی نہیں رہی۔

اسپتال کے بستر پر موجود فوجی نے اپنی دونوں ٹانگوں کے زخموں پر بندھی پٹیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی ماہ تک شدید تکلیف اور مایوسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔

رائٹرز کے مطابق ولاسینکو کی بیان کردہ کہانی کی یوکرینی فوج نے تصدیق کی، جبکہ اسے بچانے والے ڈرون پر نصب کیمرے کی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ تاہم رائٹرز نے کہا کہ وہ اس کی کہانی کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔

ولاسینکو یوکرین کی 30ویں میکانائزڈ بریگیڈ کا حصہ تھا اور خارکیف کے علاقے میں تعینات تھا۔ اسے مئی 2025 میں محاذ پر ایک ساتھی فوجی کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا، جس کا کال سائن باسکی تھا۔

دونوں فوجی ایک تنگ زیرزمین مورچے میں رہتے تھے اور انہیں خوراک سمیت ضروری سامان ڈرون کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا۔ ان سامان کی ترسیل میں چاکلیٹ اور سگریٹ بھی شامل ہوتے تھے۔

جب گزشتہ سال موسم خزاں میں فوجیوں کی تبدیلی کا وقت آیا تو ولاسینکو کے مطابق اس کی جگہ لینے کے لیے بھیجے گئے دو فوجی راستے میں مارے گئے۔ ان کی لاشیں واپس لانے کے لیے بھیجے گئے مزید دو فوجی بھی ہلاک ہوگئے۔

ولاسینکو نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تب احساس ہوا کہ اب حالات ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور یہاں سے کوئی بھی واپس نہیں نکل سکے گا۔

تقریباً 10 ماہ ایک ساتھ گزارنے کے بعد دونوں فوجیوں کو فروری کے وسط میں اپنا مورچہ چھوڑنا پڑا کیونکہ اس میں پانی بھر گیا تھا۔ وہ جان بچانے کے لیے ایک تباہ شدہ اسکول میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، لیکن وہاں بھی انہیں سکون نہ مل سکا۔

روسی نگرانی کرنے والے ایک ڈرون نے دونوں فوجیوں کو اس وقت دیکھا جب وہ اپنے ساتھیوں کی جانب سے گرائے گئے خشک کپڑوں اور خوراک کا سامان لینے کے لیے باہر نکلے۔ اس کے بعد ایک روسی ڈرون نے حملہ کیا، جس میں باسکی اپنی 50ویں سالگرہ کے روز ہلاک ہوگیا۔

حملے میں ولاسینکو کا بایاں پاؤں بری طرح تباہ ہوگیا، جبکہ گرنے کے باعث اس کی دائیں ٹانگ بھی شدید زخمی ہوگئی۔ اس کے لیے چلنا پھرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا، اس لیے اس نے اسکول میں ایک پرانے دھاتی بوائلر کے نیچے تقریباً 80 بائی 60 سینٹی میٹر کے گڑھے میں پناہ لے لی۔

اس کا بایاں پاؤں رفتہ رفتہ گلنے لگا، جبکہ دائیں ٹانگ کی ہڈی بھی زخم سے باہر نکل آئی تھی۔ ولاسینکو نے بتایا کہ دایاں پاؤں مسلسل زمین پر گھسٹ رہا تھا اور ہڈی مزید باہر نکلتی جارہی تھی، جس کے باعث اس نے اسے خود کاٹنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے کہا کہ مجھے اپنا پاؤں کاٹنا پڑا کیونکہ وہ میرے پیچھے گھسٹ رہا تھا۔ ہڈی بھی مزید باہر نکلتی جارہی تھی۔

اس کے بقول اس کے بعد میرے پاس دونوں ٹانگیں نہیں رہی تھیں۔

ولاسینکو کو محاذ سے نکالنے کے لیے یوکرینی فوجی حکام نے مختلف طریقوں پر غور کیا، لیکن علاقے میں روسی ڈرونز کی مسلسل نگرانی کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی خطرناک ہوگئی تھیں۔

اس کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک افسر نے، جس نے اپنا نام ظاہر کرنے کے بجائے کال سائن الیکس بتایا، کہا کہ زخمی فوجیوں کو پک اپ گاڑیوں یا بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے نکالنا تقریباً ناممکن ہوچکا تھا۔

یوکرینی فوج نے پہیوں یا زنجیروں پر چلنے والی بغیر پائلٹ گاڑیوں کے ذریعے بھی ولاسینکو تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن دونوں کوششیں ناکام ہوگئیں۔ روسی ڈرونز نے ان گاڑیوں کو تباہ کردیا۔

اس کے بعد یوکرینی افسران کو مقامی کمپنی گُرزوف ڈیفنس کے تیار کردہ ایک نئے بھاری سامان اٹھانے والے ڈرون کے بارے میں معلوم ہوا۔ چھ عمودی پروں والے اس بڑے ڈرون کی مدد سے 90 کلوگرام تک وزن تقریباً 25 کلومیٹر دور لے جایا جاسکتا تھا۔

فوجی حکام کے اندازے کے مطابق ایک سال سے زائد عرصہ محاذ پر گزارنے کے بعد ولاسینکو کا وزن تقریباً 70 کلوگرام رہ گیا تھا۔ اسے بچانے کے لیے ڈرون کو تقریباً 15 کلومیٹر کا سفر کرکے محاذ سے دور محفوظ مقام تک پہنچنا تھا۔

تاہم یہ مشن بھی خطرات سے خالی نہیں تھا، کیونکہ روسی فوج چھوٹے ایسے ڈرونز استعمال کرتی ہے جنہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے براہ راست دیکھا اور چلایا جاسکتا ہے۔ یہ ڈرون بڑے فضائی ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں ولاسینکو کو معمول کے مطابق بھیجے جانے والے سامان میں ایک غیر معمولی حفاظتی پٹی اور ایک موبائل فون ملا، جس میں اسے استعمال کرنے کی ہدایات کی ویڈیوز محفوظ تھیں۔

اسے اندازہ ہوگیا کہ اسے نکالنے کے لیے ایک غیر معمولی منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اسے خطرات کا علم تھا، لیکن اس کے پاس زندہ بچنے کا شاید یہی آخری موقع تھا۔

4 اکتوبر کو چھ پروں والا بڑا ڈرون اس کے مقام پر پہنچا۔ ولاسینکو نے خود کو ڈرون کی مشین سے لٹکی ہوئی ایک مضبوط دھاتی کلپ کے ساتھ باندھا، جس کے بعد ڈرون نے اسے تقریباً 70 میٹر بلندی تک اٹھا لیا۔

اس دوران تین چھوٹے ڈرون بڑے ڈرون کے ساتھ پرواز کرتے رہے تاکہ روسی حملہ آور ڈرونز کی توجہ بٹائی جاسکے۔ یوکرین کے چار ڈرون آپریٹرز کے عملے، توپ خانے اور بڑے پروں والے ڈرونز نے بھی روسی ڈرونز کے معلوم ٹھکانوں کو تقریباً دو گھنٹے تک نشانہ بنایا تاکہ ریسکیو مشن کے لیے راستہ محفوظ بنایا جاسکے۔

تقریباً 15 منٹ کی سنسنی خیز پرواز کے بعد امدادی ڈرون ولاسینکو کو لے کر محفوظ مقام پر پہنچ گیا۔ فوجی حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مقام کی درست جگہ ظاہر نہیں کی۔

ولاسینکو کے مطابق اس دوران اسے گرنے کا خوف تو تھا، لیکن سب سے زیادہ ڈر پانی میں گرنے کا تھا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا۔

اس نے کہا کہ مجھے اس بات کا خوف نہیں تھا کہ میں جنگل میں کہیں گر جاؤں گا، لیکن مجھے پانی میں گرنے سے ڈر لگ رہا تھا کیونکہ میں تیر نہیں سکتا۔

ولاسینکو کی ریسکیو کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ڈرونز کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ محاذ کے بعض علاقے اس قدر خطرناک ہوچکے ہیں کہ وہاں فوجیوں کی معمولی نقل و حرکت بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

ان علاقوں کو بعض اوقات ’’کل زون‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں ڈرون مسلسل فضا میں موجود رہتے ہیں اور فوجیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔

اسی خطرے کے باعث دونوں ممالک کے فوجی طویل عرصے تک زمین کے اندر بنے مورچوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ کئی فوجی مہینوں تک اپنی جگہ سے باہر نہیں نکل پاتے، جبکہ زخمیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانا بھی انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles