لاہور میں بسنت کے لیے ایس او پیز جاری، غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی ممنوع


پنجاب حکومت نے لاہور میں اگلے برس 12 سے 14 مارچ تک بسنت منانے کے اعلان کے بعد اس حوالے سے قواعد و ضوابط بھی جاری کردیے ہیں۔ حکومت نے غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی ممنوع جب کہ 31 دسمبر تک چھتوں پر کم از کم ساڑھے تین فٹ بلند مضبوط حفاظتی دیواریں تعمیر کرنا لازم قرار دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت 2027 کے محفوظ انعقاد کے لیے حفاظتی ضوابط جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکومت کے مطابق لاہور میں بسنت 12، 13 اور 14 مارچ کو منائی جائے گی، جب کہ ان تاریخوں سے پہلے اور بعد میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت اجلاس میں بسنت کے دوران شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جاری کردہ ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

حکومتی ہدایات کے مطابق پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی چھتوں پر 31 دسمبر تک کم از کم ساڑھے تین فٹ بلند مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کرنا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ مجاز مقامات پر چھتوں، منڈیروں اور سیڑھیوں کی مرمت بھی اسی تاریخ تک مکمل کرنا ہوگی۔
سیکرٹری داخلہ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی عمارتوں اور گھروں کی چھتوں کا مکمل معائنہ کروائیں۔ اگر کسی عمارت یا چھت کے غیر محفوظ ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی تو وہاں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کے مجاز افسران بھی پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی چھتوں کا جائزہ لیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی چھت کی مضبوطی اور حفاظت کی ذمہ داری مکان کے مالک پر ہوگی۔ اگر بجلی کی تاریں کسی چھت کے قریب ہوں تو عمارت کے مالک کو بسنت سے پہلے انہیں محفوظ بنانے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
سیکرٹری داخلہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور پتنگوں اور ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت کی مقررہ حدود کے مطابق نگرانی کریں گے۔ ضوابط یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی عمارت کو سیل کرنے کا اختیار بھی ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوگا۔

بسنت کے دوران حادثات کی روک تھام کے لیے سٹی ٹریفک پولیس لاہور 20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز مفت نصب کرے گی۔ سیکرٹری داخلہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ تفریح کے مقابلے میں انسانی جان کو ترجیح دیں اور تمام قوانین اور حفاظتی ہدایات کی پابندی کریں۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ بسنت کی مقررہ تاریخوں، یعنی 12 سے 14 مارچ 2027 سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی کرنے پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر محفوظ، غیر قانونی یا غیر مہذب سرگرمی کی اطلاع ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دیں۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی لاہور میں بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کیا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے اس تہوار کو 2026 میں بسنت کے کامیاب انعقاد کا تسلسل قرار دیتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی مہمانوں کو بھی لاہور آنے کی دعوت دی تھی۔
پتنگ بازی کے دوران خطرناک ڈور سے ہونے والے حادثات کے باعث پنجاب میں طویل عرصے تک بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی رہی۔
گزشتہ سال فروری میں لاہور میں تقریباً 20 سال کے وقفے کے بعد بسنت کا تہوار دوبارہ منایا گیا تھا۔ اس موقع پر پنجاب حکومت نے چھ سے آٹھ فروری تک سخت حفاظتی اقدامات اور مخصوص ضوابط کے تحت پتنگ بازی کی اجازت دی تھی۔ 2026 میں تہوار کی بحالی کے ساتھ پتنگوں اور ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال کو ضوابط کا پابند بنایا گیا تھا، جب کہ خطرناک اور دھاتی ڈور پر پابندی برقرار رکھی گئی تھی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles