چین کا باڈی گارڈ روبوٹ: حملہ آوروں اور حادثات سے بچانے کی وڈیو وائرل

روبوٹکس کی دنیا میں انسانوں جیسے روبوٹس کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ چین کی معروف روبوٹ ساز کمپنی یونٹری نے ایک ایسا ہیومنائڈ روبوٹ متعارف کرایا ہے جسے حملہ آوروں کو قابو کرنے، حادثات میں گاڑیاں اٹھانے اور خطرے میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی نے جاری کردہ ایک تشہیری ویڈیو میں اپنے نئے روبوٹ ایچ 2-ایکس کو پیش کیا، جسے ’کنگ فو لیجنڈ: گارجین‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں روبوٹ کو سیکیورٹی اور امدادی کارروائیوں کی مختلف مشقیں کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے ایک منظر میں روبوٹ کو چاقو سے مسلح ایک شخص سے خاتون کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایک دوسرے منظر میں وہ گاڑی کا ایک حصہ اٹھا کر اس کے نیچے پھنسے ہوئے شخص کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک اور منظر میں روبوٹ ایک راہ گیر کو تیزی سے آتی ہوئی گاڑی کے راستے سے ہٹاتا ہے اور بچا لیتا ہے۔ ایک ویڈیو میں اسے گاڑی کا دروازہ توڑتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

یونٹری کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مظاہرے روبوٹ نے خودکار نظام کے تحت انجام دیے، پہلے سے پروگرام شدہ ہدایات پر عمل کیا یا اسے دور بیٹھ کر کنٹرول کیا گیا تھا۔ کمپنی نے یہ بھی ثابت نہیں کیا کہ روبوٹ حقیقی زندگی کے غیر متوقع حالات میں خود خطرات کی شناخت کرکے محفوظ انداز میں کارروائی کرسکتا ہے۔

ربوٹ بنانے والی کمپنی یونٹری فروخت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ہیومنائڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی ہے۔ اس کا نیا ایچ 2-ایکس، کمپنی کے پہلے ایچ 2 روبوٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، اصل ایچ 2 روبوٹ کا قد 1.8 میٹر اور وزن تقریباً 70 کلوگرام ہے۔

اس روبوٹ میں حرکت کے لیے 31 ڈگریز آف فریڈم موجود ہیں، یعنی اس کے جسم کے مختلف جوڑ کئی انداز میں حرکت کرسکتے ہیں۔ اس کے ٹانگوں کے جوڑوں کا زیادہ سے زیادہ ٹارک 360 نیوٹن میٹر ہے، جو حرکت کے دوران قوت پیدا کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کمپنی نے تشہیری ویڈیو کی تفصیل میں کہا کہ ایچ 2-ایکس کو لوگوں کی خدمت اور حفاظت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ بیٹری برداشت تقریباً آٹھ گھنٹے بتائی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ دورانیہ مسلسل کام کرنے کی صورت میں ہے یا روبوٹ کے کھڑے رہنے سمیت دیگر حالات میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

یونٹری نے روبوٹ کی قیمت اور مارکیٹ میں دستیابی کی تاریخ ظاہر نہیں کی۔ کمپنی نے خطرناک تبدیلیوں اور غیر مجاز استعمال سے بھی خبردار کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ روبوٹ سے کم از کم دو سے تین میٹر کا محفوظ فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

ایچ 2-ایکس کی رونمائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یونٹری اپنے ہیومنائڈ روبوٹس کو صرف حیرت انگیز مظاہروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کمپنی ایسی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ہیومنائڈ روبوٹس مسلسل سیکھنے کے عمل سے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔

اگرچہ ایچ 2-ایکس کی ویڈیو میں روبوٹ کو مشکل سیکیورٹی اور امدادی کارروائیاں کرتے دکھایا گیا ہے، لیکن اس کی کارکردگی، خودمختاری اور حفاظت کے بارے میں ابھی اہم سوالات باقی ہیں۔ ان صلاحیتوں کی عملی افادیت اور کارکردگی کا اندازہ حقیقی حالات اور ماحول میں ہی لگایا جاسکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles