اسمارٹ فونز کی دنیا میں فولڈ ایبل فونز کو کئی سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی مقبولیت اب بھی عام اسمارٹ فونز کے مقابلے میں محدود ہے۔ اب ایپل نے بھی اس شعبے میں قدم رکھ دیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی کی آمد سے اس مخصوص مارکیٹ کو نئی وسعت مل سکتی ہے۔
ایپل کے پہلے فولڈ ایبل فون ’آئی فون ڈو‘ کی فروخت جمعے، 23 اکتوبر سے شروع ہوگئی ہے۔ اس فون کی کامیابی نہ صرف فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ کے لیے اہم ہوگی بلکہ کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کے لیے بھی ابتدائی امتحان ثابت ہوسکتی ہے، جنہوں نے ستمبر میں عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتے کے اندر اس فون کی رونمائی کی تھی۔
سام سنگ الیکٹرانکس اور ہواوے جیسی کمپنیاں کئی سال سے مہنگے فولڈ ایبل فون فروخت کر رہی ہیں، تاہم ایپل کی آمد سے اس ٹیکنالوجی کو زیادہ صارفین تک پہنچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
آئی فون ڈوؤ کے لیے صارفین کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ جمعے پری آرڈرز شروع ہونے کے چند ہی منٹ بعد ایپل کی جانب سے بتائی جانے والی ڈیلیوری کی متوقع تاریخیں جنوری کے آخر تک پہنچ گئی تھیں۔ اس کی وجہ طلب کا دستیاب فونز کی تعداد سے بڑھ جانا تھا۔ کمپنی نے صارفین کے ردعمل کو غیر معمولی قرار دیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایپل کے پہلے اسٹور پر فون کی فروخت شروع ہونے سے پہلے ہی خریداروں کی قطار لگ گئی۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے اسٹور کھلنے سے قبل لوگ وہاں پہنچ چکے تھے۔

48 سالہ انجینئر سائمن کرشنن نے 512 جی بی اسٹوریج والا آئی فون ڈو 3,899 آسٹریلوی ڈالر، یعنی تقریباً 2,734 امریکی ڈالر میں خریدا، پاکستانی روپوں میں اس کی قیمت تقریباً 7 لاکھ 56 ہزار بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فون کی قیمت زیادہ ہونے کے باعث یہ ان کے لیے ایک پرتعیش خریداری ہے، لیکن ان کے خیال میں زندگی مختصر ہے، اس لیے وہ اسے خریدنا چاہتے تھے۔
آئی فون ڈو کے ابتدائی جائزوں میں اس کے ڈیزائن اور مضبوط گرپ کو سراہا گیا ہے۔ فون کو کھولنے اور بند کرنے کے لیے استعمال ہونے والا یہ گرپ تقریباً نظر نہیں آتا، جو فولڈ ایبل فونز کے ڈیزائن میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے ایسے فونز کی اسکرین پر تہہ کے مقام پر نمایاں لکیر صارفین کے لیے ایک بڑی خامی اور خریداری سے گریز کی وجہ رہی ہے۔ تاہم ابتدائی جائزوں میں آئی فون ڈو کے ڈیزائن کو اس مسئلے کے حل کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود فون کو تمام شعبوں میں یکساں پذیرائی نہیں ملی۔ جائزہ لینے والوں کے مطابق اس میں ٹیلی فوٹو لینس موجود نہیں، جس سے دور کی چیزوں کی تصاویر لینے کے حوالے سے بعض صارفین مایوس ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ تھرڈ پارٹی ایپس کو فون کی نئی اسکرین کے سائز کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔
ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فون کو تہہ کرکے استعمال کرتے وقت بعض روزمرہ کام عام آئی فون کے مقابلے میں کم سہولت کے ساتھ انجام دیے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل کی مصنوعات پر نظر رکھنے والے بعض معروف مبصرین نے کمپنی کے بہت سے صارفین کو فی الحال یہ فون نہ خریدنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
ایپل کی مصنوعات پر طویل عرصے سے تبصرے کرنے والے جان گروبر نے اپنے بلاگ ڈیرنگ فائر بال پر لکھا کہ ایک ہفتے تک آئی فون ڈو استعمال کرنا دلچسپ تجربہ رہا، لیکن انہیں یہ ایک انتہائی نفاست سے تیار کیا گیا ابتدائی نمونہ محسوس ہوا، نہ کہ ایسی مکمل مصنوعات جسے وہ خرید کر روزانہ اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے۔
ٹیکنالوجی کے معروف مبصر مارکس براؤنلی نے یوٹیوب پر اپنے جائزے میں کہا کہ اگر کوئی شخص بنیادی طور پر پیغامات بھیجنے، سوشل میڈیا استعمال کرنے اور انٹرنیٹ براؤز کرنے کے لیے فون خریدتا ہے تو آئی فون ڈو اس کے لیے مناسب انتخاب نہیں ہوسکتا۔ مارکس براؤنلی، ایم کے بی ایچ ڈی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق، اگر کسی صارف کے لیے تقریباً 2,000 امریکی ڈالر خرچ کرنا بڑا مسئلہ نہیں اور اسے فولڈ ایبل فون کا تصور پسند ہے تو کچھ نئی خصوصیات کا عادی ہونے کے بعد یہ ایک دلچسپ تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے چہرے کی شناخت کے ذریعے فون کھولنے کی سہولت نہ ہونے کو بھی ان تبدیلیوں میں شامل کیا جن سے صارفین کو مطابقت پیدا کرنا ہوگی۔

فون کی ابتدائی طلب زیادہ ہونے کے باوجود اس کی محدود دستیابی ایپل کے ان مداحوں کے لیے مایوسی کا باعث بن سکتی ہے جو اسٹورز پر جاکر اسے خریدنا چاہتے ہیں۔
ایپل نے رائٹرز کو بتایا کہ اسٹور پر براہ راست پہنچنے والے خریداروں کے لیے فون کی دستیابی مختلف ممالک میں مختلف ہوگی۔ امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا، میکسیکو اور برطانیہ سمیت یورپ کے بیشتر حصوں میں ابتدائی اسٹاک محدود ہے۔
چین، فرانس، ہانگ کانگ، بھارت اور جاپان میں فون صرف ان صارفین کو دستیاب ہوگا جنہوں نے اسے آن لائن آرڈر کیا تھا۔
چین کے زیر انتظام علاقے مکاؤ میں صورت حال مختلف رہی، جہاں آئی فون ڈو صرف اسٹور پر پہنچ کر خریدنے والوں کے لیے دستیاب ہوگا۔ سوشل میڈیا پوسٹس اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، وہاں خریدار اسٹور کھلنے سے کئی گھنٹے پہلے ہی قطاروں میں موجود تھے۔
فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں ایپل کی بڑی پیش گوئی
مارکیٹ ریسرچ ادارے آئی ڈی سی کے نائب صدر فرانسسکو جیرونیمو کے مطابق، فولڈ ایبل فونز کئی سال سے مارکیٹ میں موجود ہیں، لیکن عام اسمارٹ فونز کے مقابلے میں ان کے صارفین کی تعداد اب بھی محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایپل کی آمد اس ٹیکنالوجی کو زیادہ وسیع صارفین تک پہنچا سکتی ہے۔
آئی ڈی سی کی پیش گوئی کے مطابق، ایپل 2026 میں فولڈ ایبل فونز کی مجموعی مارکیٹ مالیت کا 44 فیصد حاصل کرسکتا ہے، جبکہ فروخت ہونے والے ایسے فونز کی مجموعی تعداد میں اس کا حصہ 31 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
ادارے کا اندازہ ہے کہ 2027 تک ایپل اس شعبے میں فروخت کی مالیت اور بھیجے جانے والے فونز کی تعداد، دونوں لحاظ سے مارکیٹ لیڈر بن جائے گا۔
ایپل کے لیے آئی فون ڈو کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے جدید ڈیزائن یا ابتدائی طلب پر نہیں ہوگا، بلکہ یہ بھی اہم ہوگا کہ صارفین اس کی بلند قیمت، کیمرے کی محدود خصوصیات اور روزمرہ استعمال میں پیش آنے والی تبدیلیوں کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔