سردیاں آنے سے پہلے ایل پی جی مہنگی، کئی شہروں میں 750 روپے فی کلو تک فروخت

ملک بھر میں سردیوں کی آمد سے قبل ہی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا، مختلف شہروں میں گیس 450 سے 750 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی جب کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کر رکھی ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور سردیوں کی آمد سے پہلے ہی صارفین کو مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاہم مختلف شہروں میں گیس مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہورہی ہے۔

کراچی میں ایل پی جی کی من مانی قیمتوں پر فروخت جاری ہے اور مختلف علاقوں میں فی کلو گیس کے لیے 500 سے 550 روپے تک طلب کیے جارہے ہیں۔ سرکاری قیمت اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان بڑے فرق کے باعث گھریلو صارفین کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

اسلام آباد کے بعض علاقوں میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو سے زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہے جب کہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 7 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ پشاور میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو جب کہ حیدرآباد میں اس کی قیمت 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

شمالی علاقوں میں صورت حال مزید سنگین ہے، جہاں مختلف مقامات پر ایل پی جی 700 سے 750 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ موسم سرما میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

شہریوں کا ملا جلا ردعمل

ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شہریوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ اوگرا کی مقرر کردہ قیمت اور بازار میں وصول کیے جانے والے نرخوں میں نمایاں فرق ہے، جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہورہا ہے۔ ان کے مطابق سردیوں میں گیس کی ضرورت بڑھنے کے باعث اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب رکشہ اور سوزوکی ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ مہنگی ایل پی جی کے باعث گاڑیاں چلانے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن پر خرچ ہورہا ہے۔

بعض شہریوں نے قیمتوں میں اضافے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے جب کہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی مہنگی ہے تو حکومت کو قیمتوں کے تعین اور فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

دکانداروں اور درآمد کنندگان کا مؤقف

ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار مہنگی سپلائی کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں گیس مہنگے داموں مل رہی ہے، جس کے باعث وہ کم قیمت پر فروخت نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب ایل پی جی درآمد کنندگان نے حکومت سے قیمتوں کے تعین کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کرنے کے بجائے ہفتہ وار یا روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے تاکہ قیمتوں میں تبدیلی کو سپلائی کی صورت حال کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاسکے۔

ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles