حوثیوں کا سعودی وزارتِ دفاع، آرامکو اور دو ایئرپورٹس پر حملوں کا دعویٰ

یمن کے حوثی گروہ (انصاراللہ) نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کی عمارت، ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور دو بین الاقوامی ایئرپورٹس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں تازہ حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے جاری بیان میں ان کارروائیوں کو سعودی عرب کی مبینہ فوجی کارروائیوں کا جوابی اقدام قرار دیا گیا ہے۔

یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر یمنی قبائل کو نشانہ بنایا گیا تو سعودی عرب کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمن پر حملے بند اور ملک کا محاصرہ ختم نہ کرنے تک وہ ’محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور حملوں کے جواب میں حملے‘ کی حکمتِ عملی جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جمعرات کو دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشنز کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق بدھ کی شام کنگ فہد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سعودی اور بھارتی شہری جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ حکام نے اس حملے میں 8 افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے جس میں بھارت، یمن اور بنگلا دیش کے دو، دو جب کہ سعودی عرب اور نیپال کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔

یمن میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں 5 ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جمعرات کی صبح بھی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز مار گرانے گئے تھے۔

اس سے قبل سعودی وزارتِ توانائی نے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران 2 افراد کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

بیان کے مطابق سعودی آرامکو کے شَیبہ آئل فیلڈ میں واقع ریفائنری کی جانب آنے والے ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم اس ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان دونوں افراد میں سے ایک کی شہریت فلپائنی جب کہ دوسرے کا تعلق نیپال سے بتایا گیا ہے۔ اسی حملے میں زخمی دو افراد میں پاکستان اور بھارت کے باشندے بھی شامل تھے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ تنصیب کی حدود سے باہر پیش آیا اور اس واقعے کے باوجود شَیبہ آئل فیلڈ کے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق حالیہ واقعات میں مختلف علاقوں میں ڈرون حملوں کی کوششیں ناکام بنادی گئی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles