فرانس میں احتجاج: ایپل، ہرمیز اور لوئی ویٹوں جیسے لگژری اسٹورز لوٹ لیے گئے

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ہونے والے احتجاج نے پُرتشدد صورت اختیار کرلی، جہاں مظاہرین نے ایپل، ہرمیز اور لوئی ویٹوں سمیت معروف لگژری برانڈز کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے بعد قیمتی سامان لوٹ لیا۔ مختلف شہروں میں سپر مارکیٹوں، کپڑوں کی دکانوں، فارمیسیوں اور سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ گاڑیوں کو آگ لگانے اور پولیس پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

فرانسیسی اخبار ’لے پیرزیاں‘ کے مطابق پیرس، مارسیل، بورڈو اور لِل سمیت متعدد شہروں میں نقاب پوش افراد نے دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹا۔ بورڈو میں ایپل اور لوئی ویٹوں کے اسٹورز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ لِل میں ایپل کی ایک اور دکان لوٹ لی گئی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ماریٹیما‘ کے مطابق مارسیل میں ہجوم نے ہرمیز کے بوتیک میں بھی توڑ پھوڑ کی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں نقاب پوش افراد کو دکانوں میں داخل ہوتے، قیمتی اشیا اٹھاتے اور وہاں سے فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں پر بھی حملے

احتجاج کے دوران صرف لگژری اسٹورز ہی نہیں بلکہ سپر مارکیٹوں، ملبوسات کی دکانوں اور فارمیسیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ مختلف شہروں میں سرکاری املاک پر حملے کیے گئے، جبکہ لیون، مارسیل اور لیموج میں بلدیاتی عمارتوں سمیت تاریخی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ متعدد گاڑیوں کو آگ لگانے کے علاوہ سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

فرانس کے وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی نے مظاہرین کی تعداد 8 لاکھ کے لگ بھگ بتائی۔

صدر میکرون کا کارروائی کا اعلان

پولیس یونین یو این ایس اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مختلف مقامات پر ہجوم کو لاٹھیوں اور اینٹوں سے پولیس کی گاڑیوں پر حملے کرتے دیکھا گیا۔

پولیس یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ان پر پتھراؤ کیا جارہا ہے اور انہیں گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ یونین نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو انتشار پھیلانے والوں کے خلاف متحد رہنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر اداروں کو کمزور کرنے اور پُرامن انداز میں مطالبات پیش کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles