مولانا فضل الرحمان سے دہشت گردی کے حامیوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی: مریم نواز


وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سیاست دان کی جانب سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں اور خیبرپختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت کرنا افسوس ناک ہے۔
جمعے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے حوالے سے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر سیاست دان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا 13 سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا، صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے اور 13 قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں، ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے، ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں، دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خود ہے۔
عظمیٰ بخاری کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر رد عمل
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ایک بار پھر غیر سنجیدہ بیان دیا گیا ہے، دہشت گردوں کے حامیوں کی حمایت افسوسناک ہے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ سابقہ فاٹا کی محرومیوں کی ذمہ دار وفاق نہیں بلکہ تحریک انصاف ہے جس کی 13 سال سے وہاں حکومت تھی، سابقہ فاٹا کے فنڈز اور ترقیاتی کام نہ ہونے کا سوال ان کو بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی جماعت سے کرنا چاہیے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت متعدد مرتبہ دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنے، انہیں اس طرح کا بیان زیب نہیں دیتا اور وہ ایسے غیر سنجیدہ بیانات دے کر کس کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کریں اداروں اور شہداء کی تضحیک مت کریں، مولانا فضل الرحمان نے کچھ عرصہ قبل بھی شہدا کی تضحیک کی، ان کے سابقہ بیان پر قوم نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گرد جماعتوں کی بی ٹیم ہے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، وفاق نے شوق سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا، خیبر پختونخوا میں گورنر راج تحریک انصاف کی حکومت کی دہشت گرد دوست پالیسیوں کی وجہ سے لگایا گیا۔
وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے بیان پر پشیمانی کا اظہار کرنا چاہیے، ان کے بیان سے قوم میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، ایک میچور سیاست دان کی طرف سے غیرذمہ دارانہ بیانات ناقابل قبول ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles