یمن میں دوبارہ بھڑکنے والی خانہ جنگی کے دوران جنوب مغربی شہر تعز ایک اہم محاذ بن کر ابھرا ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی اور عدن جانے والی مرکزی شاہراہ کی بندش نے شہر کو محاصرے کی صورت حال سے دوچار کردیا ہے، جب کہ باب المندب کے قریب لڑائی اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں و تیل کی تنصیبات پر حملوں نے تنازع کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق تعز پر کنٹرول کی جنگ محض ایک شہر تک محدود نہیں، بل کہ اس کے نتائج جنوبی یمن میں طاقت کے توازن، عدن تک رسائی اور بحیرہ احمر کی اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی سلامتی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
2026 میں یمن کی جنگ دوبارہ کب شروع ہوئی؟
یمن میں 2022 کی جنگ بندی سے قائم نسبتاً پُرسکون صورت حال اگست 2026 میں اس وقت ختم ہوئی، جب حوثیوں نے نئی فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد ملک میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔
ستمبر میں حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے بندرگاہی شہر المخا اور متعدد اہم جزائر پر قبضہ کرلیا۔ اس پیش قدمی سے باب المندب کے قریب ان کی پوزیشن مضبوط ہوئی اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے لیے ساحلی علاقوں کا دفاع مزید مشکل ہوگیا۔
اکتوبر کے آغاز میں حکومتی افواج نے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے اور اہم علاقے واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی۔ اسی دوران تعز کے گرد لڑائی بھی تیز ہوگئی۔ حوثیوں نے 4 اکتوبر کو التربہ کے اہم قصبے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں تعز کا حکومتی زیرِ کنٹرول علاقوں سے زمینی رابطہ بڑی حد تک کٹ گیا۔
اس صورت حال نے محاصرے کا خطرہ بڑھا دیا اور شہریوں کی نقل مکانی میں تیزی آگئی۔
تعز پر قبضہ اتنا اہم کیوں ہے؟
تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اس کی آبادی کا تخمینہ تقریباً چھ لاکھ لگایا جاتا ہے۔ یہ 2015 میں تنازع کے مسلح مرحلے میں داخل ہونے کے بعد سے حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان اہم محاذ رہا ہے۔ شہر کو طویل عرصے سے حوثیوں کی مخالفت کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تعز جنوبی یمن کے پہاڑی علاقے میں حوثیوں کے مخالف گروہوں کا آخری بڑا شہری گڑھ ہے۔ اس کے پہاڑی علاقے ایک طرف عدن کے قریب واقع ہیں، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت قائم ہے اور دوسری طرف آبنائے باب المندب کے اطراف پھیلے ساحلی میدانوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔

اگر حوثی تعز پر قبضہ کرلیتے ہیں تو حکومتی افواج کے لیے جنوبی یمن میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا اور باب المندب کے قریب جوابی کارروائیاں جاری رکھنا مزید مشکل ہوجائے گا۔ اس سے حوثیوں کو عدن کی جانب پیش قدمی کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
تعز پر قبضہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے خلاف لڑنے والی سعودی حمایت یافتہ افواج کے لیے ایک بڑا علامتی اور فوجی دھچکا ہوگا۔ شہر کی اہمیت صرف اس کی آبادی کی وجہ سے نہیں، بل کہ اس محلِ وقوع کے باعث بھی ہے جو جنوبی یمن میں حکومتی قوت اور حوثیوں کی پیش قدمی کے درمیان ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
باب المندب پر کنٹرول کی کشمکش کیوں بڑھ گئی؟
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے بحیرہ احمر اور نہر سویز کی جانب جانے والے بحری راستے تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے قریب واقع یمنی ساحلی علاقوں پر کنٹرول صرف مقامی جنگ کا معاملہ نہیں، بل کہ بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ستمبر میں حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور المخا سمیت اہم مقامات پر قبضے نے اس خدشے کو بڑھا دیا کہ وہ باب المندب کے قریب بحری راستوں اور سعودی تیل کی ترسیل کے لیے مزید خطرہ بن سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی مہم تیز کردی۔ تاہم حکومتی افواج کے بعض علاقے واپس لینے کے دعووں کے باوجود حوثی اس علاقے کے نزدیک بدستور موجود ہیں اور تعز کے گرد بھی ان کا دباؤ برقرار ہے۔
یہ واضح رہنا چاہیے کہ حوثیوں کی باب المندب کے قریب پیش قدمی کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے پوری آبنائے پر قبضہ کرلیا ہے۔ لڑائی اہم ساحلی علاقوں اور وہاں تک رسائی کے راستوں پر کنٹرول کے لیے جاری ہے۔
تعز کے گرد فوجی صورت حال کیا ہے؟
کئی برس تک تعز حکومتی افواج کے زیرِ کنٹرول ایسے علاقے کے سرے پر واقع رہا جو شمال کی طرف حوثیوں کے زیرِ اثر خطوں میں اندر تک پھیلا ہوا تھا۔ شہر کے شمال، مشرق اور مغرب میں حوثیوں کا کنٹرول تھا، جب کہ حکومتی افواج کے پاس تعز شہر اور اس کے قریبی علاقے تھے۔ ان میں شہر کے جنوب میں واقع بلند پہاڑ جبل صابر بھی شامل ہے۔
یمن میں حالیہ لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو حوثیوں نے جبل صابر کے جنوب میں عدن جانے والی سڑک کے ساتھ واقع علاقوں پر قبضہ کرکے تعز کا زمینی رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔
عدن تک جانے والی شاہراہ تقریباً 200 کلومیٹر طویل ہے اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہے۔ اس راستے پر لڑائی میں پیش قدمی سست اور مشکل ہوتی ہے۔ حوثیوں نے شاہراہ کے اہم حصوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے، جن میں التربہ اور المسراخ کے علاقے بھی شامل ہیں۔
’رائٹرز‘ کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے تعز محاصرے کی صورت حال سے دوچار ہے، جب کہ حوثی وقتاً فوقتاً شہر اور اس کے اطراف حکومتی فوج کے ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کرتے ہیں۔
حکومتی افواج سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے حوثیوں کو ان علاقوں سے پیچھے دھکیلنے اور شاہراہ دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں جن پر انہوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران قبضہ کیا۔ تاہم اکتوبر کے وسط تک حکومتی افواج شہر کے گرد کھوئے ہوئے تمام علاقے واپس حاصل نہیں کرسکی تھیں۔
یمن کی جنگ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور آرامکو تک کیسے پہنچی؟
یمن میں زمینی لڑائی تیز ہونے کے ساتھ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا ہے۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے، جب کہ حوثیوں نے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کو یمن میں سعودی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے۔
اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ ہوا، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر حملوں اور فضائی خطرات کی اطلاعات سامنے آئیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان نے 15 اکتوبر کو بتایا تھا کہ رواں ماہ ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی 20 کوششیں ہوئیں، جن میں مجموعی طور پر 17 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد اتحادی ترجمان کی جانب سے بیان کیے گئے تھے۔
13 اکتوبر کو سعودی عرب کے مشرقی شہر الظهران میں سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کی ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے الظهران میں آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے ہوائی اڈے اور دارالحکومت میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے آرامکو کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے نتیجے میں محدود آگ لگنے کی اطلاع دی اوربتایا تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم ’رائٹرز‘ سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق آگ عمارت کی متعدد منزلوں تک پھیلی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کمپنی کے آپریشن معمول کے مطابق جاری رہے۔
حوثیوں نے اس کے بعد سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملے کرنے کی دھمکی بھی دی۔
سعودی عرب کی جوابی کارروائیاں
13 اکتوبر کو سعودی قیادت میں اتحاد نے صنعا کے نواح میں یمن پیٹرولیم کمپنی کے الصباح مرکزی اسٹیشن کے قریب کارروائی سے پہلے شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی تنبیہ کی۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام میڈیا نے بعد میں اطلاع دی کہ اس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یمن پیٹرولیم کمپنی نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ مقام پر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود نہیں تھا اور حملے سے تیل کے ذخائر یا رسد کے سلسلے متاثر نہیں ہوئے۔
اس کے ساتھ سعودی فضائی دفاع نے ریاض کی جانب آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں بھی کیں۔ حوثیوں نے ان حملوں کو سعودی عرب کی جانب سے یمن میں کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا، جب کہ سعودی قیادت میں اتحاد کا مؤقف ہے کہ حوثی شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
15 اکتوبر کو حوثیوں نے جنوبی شہر عدن میں صدارتی محل القصر المعاشیق کے احاطے پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔ یمنی حکام کے مطابق اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جن میں محافظ اور شہری ملازمین شامل تھے۔ وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا ہدف وہاں قائم سعودی فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر تھا۔ تاہم رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
16 اکتوبر کو صنعا میں دھماکے کی آواز اور فضا میں جنگی طیاروں کی پروازیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع اب صرف تعز اور باب المندب کے قریب زمینی محاذ تک محدود نہیں رہا، بل کہ سعودی اور یمنی اہداف پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
تعز حوثیوں کی مخالفت کا مرکز کیسے بنا؟
تعز کے شمالی یمن کے حکمرانوں کے ساتھ تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ یہ شہر 2011 کی عرب بہار کی تحریک کے دوران بھی احتجاج کا اہم مرکز تھا، جس کے نتیجے میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔
حوثی زیدی شیعہ مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ تعز کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ تاہم شہر میں حوثیوں کی مخالفت کی وجوہ محض مذہبی اختلافات تک محدود نہیں، بل کہ اس کے پیچھے سیاسی تاریخ اور اقتدار کی کشمکش بھی اہم رہی ہے۔
2014 میں صالح اور حوثیوں نے اتحاد کرکے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا، جس سے عرب بہار کے بعد شروع ہونے والی سیاسی منتقلی کا عمل پٹری سے اتر گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں یمن میں وفاقی اور جمہوری ریاست کے قیام کی تجویز سامنے آئی تھی۔
2015 کے آغاز میں صالح کے وفادار فوجی دستوں نے تعز میں اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور پھر مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ مظاہرین نے صالح اور حوثیوں پر تختہ الٹنے کا الزام لگایا۔
شہر اور اس کے اطراف کئی ماہ تک شدید لڑائی جاری رہی۔ حوثیوں اور صالح کے وفادار فوجی دستوں کا مقابلہ مقامی جنگجوؤں اور یمنی فوج کی ان بریگیڈز سے ہوا جو تقسیم شدہ فوج کے اندر حکومتی دھڑے کی حمایت کر رہی تھیں۔
تعز کے شہریوں کو طویل محاصرے کے دوران گولہ باری، سنائپرز کی فائرنگ اور بنیادی اشیا کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر حکومتی افواج حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کو شہر سے نکالنے اور عدن کے ساتھ زمینی راستہ دوبارہ کھولنے میں کامیاب ہوئیں۔
تعز میں لڑائی پورے 2015 اور 2016 کے بعض حصوں میں جاری رہی، جب کہ شہر کا محاصرہ وقفے وقفے سے 2017 تک برقرار رہا۔ 2022 کی جنگ بندی کے بعد شہر میں کچھ سکون آیا، لوگوں کی واپسی اور گھروں کی تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوا، تاہم بنیادی مسائل پوری طرح حل نہیں ہوئے تھے۔
تعز میں انسانی صورت حال کتنی سنگین ہے؟
حالیہ لڑائی نے تعز صوبے میں نقل مکانی کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق تازہ لڑائی کے دوران صوبے میں کم از کم ایک لاکھ 21 ہزار افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد شہر کے بجائے آس پاس کے دیہی علاقوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ یمنی حکومتی ذرائع نے شہر سے 80 ہزار افراد کے نکلنے کی اطلاع دی ہے۔
تعز شہر کے رہائشیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ عدن جانے والی سڑک بند ہونے کے بعد انہیں روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی قلت اور بازاروں میں قیمتوں میں بڑے اضافے کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں نے ایندھن، خوراک، ادویات اور صاف پانی کی وسیع قلت سے خبردار کیا ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق اکتوبر کے وسط تک شہر میں گندم کے آٹے کے ذخائر تقریباً ختم ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ تعز میں امداد پر انحصار کرنے والے چھ لاکھ سے زیادہ افراد تک رسائی متاثر ہوئی ہے، جن میں دو لاکھ سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
خوراک اور صاف پانی کی قلت سے صحت کے مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسیف) نے حال ہی میں یمن میں جن بچوں کی غذائی حالت کا جائزہ لیا، ان میں ہر تین میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار پایا گیا۔ یمن میں ہیضہ، ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں بھی موجود ہیں، جس کے باعث امدادی صورت حال مزید تشویش ناک ہوسکتی ہے۔
اسپتالوں کو بھی زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق اگر محاصرہ طول پکڑتا ہے تو نہ صرف خوراک اور ادویات کی فراہمی متاثر ہوگی، بل کہ مریضوں کو اسپتالوں تک پہنچانا بھی مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
اب آگے کیا ہوسکتا ہے؟
یمنی حکومتی افواج سعودی فضائی مدد سے تعز کے اطراف حالیہ پیش قدمی میں حوثیوں کے قبضے میں جانے والے علاقے واپس لینے اور عدن کی شاہراہ دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اس کارروائی کی کامیابی یقینی نہیں۔ باب المندب کے قریب بعض علاقے واپس لینے کے حکومتی دعووں کے باوجود حوثیوں کی موجودگی برقرار ہے اور تعز کا محاصرہ ختم نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب حوثی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، فوجی مقامات اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنائے جانے اور سعودی قیادت میں اتحاد کی یمن میں جوابی کارروائیوں سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ لڑائی مزید پھیل سکتی ہے۔
تعز کو ایک بار پھر طویل محاصرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جیسا کہ جنگ کے ابتدائی برسوں میں ہوا تھا۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ حوثی شہر پر براہِ راست قبضے کی کوشش کریں، تاہم تعز میں ان کی مخالفت گہری ہے، اس لیے ایسی کسی کارروائی کے خلاف سخت مزاحمت ہوسکتی ہے۔
تعز کی لڑائی کا نتیجہ صرف شہر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گا، اس کے اثرات جنوبی یمن میں حکومتی کنٹرول، باب المندب کے قریب بحری راستوں اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔