صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ایٹمی حملے کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

امریکی ٹی وی چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا بم ہے، جو دیکھنے میں چھوٹے ایٹمی بم جیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں جوہری ہتھیار نہیں ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔

تاہم اس سے قبل ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے دنیا کے بڑے غیر جوہری بموں میں سے ایک استعمال کرنے پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

امریکی ٹی وی چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنات تھا ’مدر آف آل بمز‘ کوئی جوہری بم نہیں بلکہ انتہائی طاقتور روایتی بم ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ان منصوبوں میں ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال کا امکان بھی زیرِ غور بتایا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق متعدد امریکی حکام نے ان ممکنہ حملوں سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کارروائی امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یا بعد میں کی جا سکتی ہے۔

تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ایران پر حملے کے حتمی فیصلے یا اس کے وقت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

’مدر آف آل بمز‘ امریکا کے تیار کردہ طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا سرکاری نام جی بی یو 43/بی میسیو آرڈیننس ایئر برسٹ (MOAB) ہے۔ یہ روایتی دھماکا خیز مواد سے کام کرتا ہے اور جوہری بم سے مختلف ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے، تاہم ان کے بیان میں روایتی ہتھیاروں کے ذریعے ممکنہ فوجی کارروائی کے راستے کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles