
پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں، جن پر 20 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
درخواستوں میں فیڈریشن آف پاکستان، صدر، وزیرِ اعظم، گورنر کے پی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
دونوں درخواستوں میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت 20 اکتوبر کو ہوگی، جبکہ سلمان خان ایڈووکیٹ کی درخواست بھی اسی روز سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بدھ کے روز علی زمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں گورنر راج کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی، جب کہ عدالت سے درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی تھی۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ خراب حالات کو قرار دیا جارہا ہے تو پھر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حالات خرابی کو ہی جواز بنایا گیا ہے تو بلوچستان میں گورنر راج اور کچے کے علاقوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیئے۔