ویلکم اسٹار لنک: امبانی کے ریلائنس گروپ کا ایلون مسک کے الزامات پر رد عمل

بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے ایلون مسک کے اسٹارلنک کی بھارت میں آمد میں مبینہ رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں ہر قسم کے مقابلے کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم اس شعبے میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو بھارتی قوانین اور حکومتی پالیسیوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات میں مقابلے کے حق میں ہے۔ کمپنی کے مطابق جیو سمیت ہر ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی عوام کو خدمات فراہم کرے اور ملک کے قوانین کے مطابق کام کرے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں ایلون مسک کا نام براہ راست نہیں لیا، تاہم کہا کہ ریلائنس اور بھارتی مارکیٹ سے متعلق حالیہ بیانات کے تناظر میں وہ حقائق سامنے رکھنا چاہتی ہے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے الزام لگایا کہ بھارت میں بعض بااثر کاروباری شخصیات اسٹارلنک کی سروس شروع کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی پر بھی طنز کرتے ہوئے ایکس پر سوال کیا کہ کیا امبانی ہی بھارت کے اصل باس ہیں؟

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مسک کے بیان پر ردعمل دیا۔ انہوں نے لکھا کہ بھارت میں خوش آمدید ایلون، ابھی آپ کو دوسرے شخص کا پتا چلنا باقی ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس کی اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس، جیو، کو بھی منظوریوں کے حصول کے لیے انتظار کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی اور ایسی جدت کا خیرمقدم کرتی ہے جس سے عوام کی زندگی بہتر ہو، تاہم کسی بھی کمپنی کو ملکی قوانین اور ضابطوں سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

کمپنی کے مطابق بھارتی حکومت بھی واضح کر چکی ہے کہ منظوری کا یکساں طریقہ کار تمام درخواست گزاروں پر لاگو ہوتا ہے، خواہ ان کا تعلق بھارت سے ہو یا کسی دوسرے ملک سے۔

اس معاملے پر بھارت کی ایک اور بڑی ٹیلی کام کمپنی بھارتی ایئرٹیل کے چیئرمین سنیل بھارتی متل نے بھی ایلون مسک اور اسٹارلنک کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔

بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے متل نے کہا کہ انہوں نے مسک سے کئی سال پہلے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے لائسنس کے لیے درخواست دی تھی۔ ان کے بقول، ’’میں منظوری کے انتظار میں ان سے کافی آگے ہوں۔ میں نے پانچ سال سے پہلے درخواست دی تھی۔‘‘

بھارتی ایئرٹیل، ایوٹیل سیٹلائٹ نیٹ ورک کے منصوبے ون ویب کی معاون کمپنیوں میں شامل ہے، جو سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزارت مواصلات اس سے پہلے مسک کے اس دعوے کو مسترد کر چکی ہے کہ منظوری کے عمل میں مقامی کمپنیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزارت کے مطابق اسٹارلنک، ایوٹیل ون ویب اور جیو سیٹلائٹ کمیونیکیشنز کی درخواستیں تقریباً ایک جیسے مراحل میں ہیں اور تینوں کو تجارتی خدمات شروع کرنے سے پہلے سکیورٹی کلیئرنس اور اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ کا انتظار ہے۔

اسٹارلنک کی نائب صدر لورین ڈریئر نے انڈین موبائل کانگریس 2026 کے موقع پر کہا کہ کمپنی بھارتی حکام سے منظوری ملتے ہی ملک میں اپنی خدمات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے مطابق اسٹارلنک گزشتہ پانچ سال سے بھارتی ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس نے بھارت میں اپنے آپریشنز بھی تیار کر لیے ہیں تاکہ منظوری ملنے پر صارفین کو خدمات فراہم کی جا سکیں۔

ادھر ریلائنس کی جانب سے جیو کے لیے تقریباً 1600 لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) سیٹلائٹس اور 23 زمینی اسٹیشنوں پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس زمین کے نسبتاً قریب مدار میں گردش کرتے ہیں اور ان کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی اہمیت ان دور دراز علاقوں میں زیادہ ہے جہاں آبادی کم ہونے یا بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث روایتی موبائل نیٹ ورک اور ٹاورز نصب کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکتا ہے، تاہم بھارت میں اسٹارلنک اور دیگر کمپنیوں کی تجارتی خدمات کا آغاز متعلقہ حکومتی منظوریوں سے مشروط ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles