ٹرمپ نے فوجی اہلکار کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ روک دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق فوجی افسر ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت، براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے کارروائی براہِ راست دکھانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس پر ریپبلکن رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور عوامی حلقوں نے مخالفت کی تھی۔ ندال حسن کو 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہُڈ میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس تجویز کو ریپبلکن رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور عوام کے مختلف حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ندال حسن کو طے شدہ شیڈول کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، تاہم اس عمل کو براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ان کے خیال میں پھانسی کو براہِ راست دکھانے سے دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکتا تھا کہ امریکا دہشت گردی اور اس نوعیت کے جرائم سے کیسے نمٹتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، بہت سے اچھے ارادے رکھنے والے لوگ ندال حسن کو مرتے ہوئے براہِ راست یا کسی دوسرے میڈیم کے ذریعے سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو پھانسی براہِ راست نشر کرنے کے منصوبے سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد صدر اور وزیر دفاع کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہوئے، تاہم پینٹاگون نے دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا دعویٰ کیا ہے۔

ندال حسن امریکی فوج میں میجر اور ماہرِ نفسیات تھا۔ نومبر 2009 میں اس نے ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 32 دیگر افراد کو زخمی کیا تھا۔

حملے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فائرنگ سے حسن ندال زخمی ہوا اور اس کے جسم کا کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہو گیا۔ وہ اب وہیل چیئر استعمال کرتا ہے۔

فوجی عدالت نے حسن کو 13 افراد کے منصوبہ بندی کے تحت قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ اسے اگست 2013 میں سزائے موت سنائی گئی۔ اب اسے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کی سزا دی جانی ہے، جس کے لیے 3 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

ہیگسیتھ نے اس سے قبل کہا تھا کہ پھانسی کو نشر کرنے کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تاہم، اس منصوبے کی مخالفت سامنے آنے کے بعد ٹرمپ نے اسے روک دیا۔

حکام کے مطابق مقتولین کے اہل خانہ، اگر چاہیں، تو پھانسی کے موقع پر ذاتی طور پر موجود رہ کر اسے دیکھ سکتے ہیں۔ امریکی سزائے موت کے مقدمات میں اہل خانہ کو یہ سہولت فراہم کرنا معمول کا طریقہ ہے۔

فائرنگ اسکواڈ براہِ راست نشر کرنے کی تجویز کو ٹرمپ کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی حمایت نہیں ملی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سمیت متعدد شخصیات نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ مذہبی رہنماؤں نے بھی اس پر اعتراضات اٹھائے۔

امریکی مسلح افواج میں کیتھولک فوجیوں کی مذہبی رہنمائی کے ذمہ دار آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے بھی اس تجویز پر اعتراض کیا۔ دوسری جانب پوپ لیو نے سزائے موت کی تمام صورتوں کی مخالفت کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں بھی امریکی شہریوں کی اکثریت نے فائرنگ اسکواڈ کو براہِ راست نشر کرنے کی مخالفت کی تھی۔

یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے منصوبہ منسوخ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ دوسری جانب میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رچرڈ نیل نے اصل منصوبے کو اخلاقی فیصلے اور بنیادی انسانی شائستگی کے حوالے سے ایک سنگین ناکامی قرار دیا۔

اس فیصلے کو ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان ایک نمایاں عوامی اختلاف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہیگسیتھ صدر کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس معاملے سے ان کے سیاسی مستقبل یا صدر کے ساتھ تعلقات پر کوئی نمایاں اثر پڑے گا یا نہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے فیصلے کا اعلان کرنے سے پہلے ہیگسیتھ سے بات کی تھی۔ ان کے مطابق وزیر دفاع صدر کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور دونوں اس معاملے پر مکمل طور پر متفق ہیں۔

امریکا میں سزائے موت کا معاملہ پہلے ہی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام رہی تھی۔ قتل کے جرم میں سزا یافتہ پائیک دو مرتبہ انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ رہی اور اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔

اس واقعے نے امریکا میں سزائے موت دینے کے طریقوں اور ان کی نگرانی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں یہ طے ہوگا کہ ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ رائے عامہ کے بعض جائزوں میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے بارے میں عوامی ناپسندیدگی میں اضافے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles