
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی وفاق اور کسی صوبے کے تعلقات میں تناؤ عروج پر پہنچ جائے یا صوبے میں کوئی بحران پیدا ہو تو ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ جیسی اصطلاحات سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہ وہ آئینی ہتھیار ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وفاق میں بیٹھی حکومت صوبے میں اکثریتی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو بھی گھر بھیج سکتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک، ملک کے ہر صوبے نے کم از کم ایک بار وفاق کے اس آئینی ہتھیار کا سامنا ضرور کیا ہے۔ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں چوتھی مرتبہ ’گورنر راج‘ نافذ ہوچکا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ’ایمرجنسی‘ اور ’گورنر راج‘ نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کے بعد منتخب صوبائی حکومت کے تمام اختیارات بیوروکریسی اور گورنر کو حاصل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے یہ منظوری وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر دی ہے۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ’گورنر راج‘ اور ’ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ صدر کی جانب سے دستخط کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام انتظامی معاملات کی باگ ڈور اب باقاعدہ طور پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں ہوگی۔
ماضی میں وفاقی حکومتوں نے صوبائی حکومتوں کے خلاف ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ جیسے آئینی ہتھیاروں کا استعمال کب، کیوں پر اور کیسے کیا؟ اس کا جائزہ لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’ایمرجنسی‘ یا ’گورنر راج‘ میں بنیادی فرق کیا ہے اور کیا آئین وفاق کو ایک منتخب وزیراعلیٰ اور اس کی کابینہ کو بے دخل کر کے تمام اختیارات کسی بیوروکریٹ یا گورنر کے ہاتھ میں دینے کا اختیار دیتا ہے؟
آئینِ پاکستان کا ’باب 10‘ کسی بھی صوبے میں ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ کے نفاذ کی وضاحت کرتا ہے۔ وفاق جب بھی کسی صوبے کا نظام اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اسی باب کی تین بنیادی آئینی دفعات ’آرٹیکل 232‘، ’آرٹیکل 234‘ یا ’آرٹیکل 235‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
ایمرجنسی – آرٹیکل 232
آئینِ پاکستان کا یہ آرٹیکل جنگ، بیرونی جارحیت یا شدید اندرونی خلفشار جیسے حالات میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے۔ یہ آرٹیکل ملکی سلامتی کو درپیش ایسے تمام خطرات کی صورت میں جنہیں صوبائی حکومت کنٹرول نہ کر سکے، صدر کو ایمرجنسی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔
اس صورتِ حال میں صوبائی اسمبلی برقرار رہ سکتی ہے مگر اس کے قانون سازی کے اختیارات مفلوج ہو جاتے ہیں اور صوبائی معاملات پر قانون سازی کا وسیع اختیار بھی وفاق کے پاس آجاتا ہے۔
گورنر راج – آرٹیکل 234
اس آرٹیکل کے مطابق اگر صدر کو گورنر یا کسی اور ذریعے سے یہ یقین ہو جائے کہ صوبائی حکومت صوبے کا نظام آئین کے مطابق چلانے میں ناکام ہوچکی ہے تو وہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کو معطل یا تحلیل کر کے تمام انتظامی اختیارات وفاق کے نمائندے یعنی گورنر کے سپرد کر سکتا ہے، جسے گورنر راج بھی کہا جاتا ہے۔
ان دونوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ گورنر راج کی مدت 2 ماہ یا مخصوص صورتِ حال میں کسی بھی صورت 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی جب کہ ایمرجنسی کے لیے آئین میں کوئی مجموعی یا آخری حد مقرر نہیں ہے، پارلیمنٹ ہر چھ ماہ بعد قرارداد منظور کر کے اس میں توسیع کرسکتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مرکز اور صوبوں کے درمیان رسہ کشی اور تناؤ کی ایک طویل داستان ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے لے کر آج تک ملک کے ہر صوبے میں منتخب حکومت نے کم از کم ایک بار اس کڑوے گھونٹ کا ذائقہ ضرور چکھا ہے۔
پاکستام میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی تاریخ
پہلا گورنر راج – 1949ء
نواب افتخار حسین ممدوٹ
پاکستان کی تاریخ میں تین مرتبہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے ہاتھ میں آئے جب کہ ملک کا پہلا باقاعدہ گورنر راج بھی جنوری 1949ء میں پنجاب میں ہی لگایا گیا تھا۔
وفاق کے اس آئینی ہتھیار کا پہلی مرتبہ نشانہ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت بنی تھی جسے کرپشن، اقربا پروری اور مِس مینجمنٹ کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا۔ تاہم تاریخی حوالہ جات کے مطابق وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ کی برطرفی کی اصل وجہ ان کے مرکز اور اپنے ہی وزیرِ خزانہ ممتاز دولتانہ سے شدید اختلافات تھے۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے 1973ء کے آئین کا سہارا لیا گیا ہے لیکن 1949ء میں ملک میں پہلی مرتبہ منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کے لیے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اس وقت کے عارضی آئین یعنی ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے ’سیکشن 92 اے‘ کا استعمال کیا تھا اور صوبائی حکومت کو برطرف کرکے تمام اختیارات گورنر پنجاب فرانسس موڈی کے سپرد کر دیے تھے۔
پنجاب میں پہلا گورنر راج 1951ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے بعد ختم ہوا، جس کے نتیجے میں میاں ممتاز دولتانہ نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم 1953ء میں پنجاب میں امن و امان کی خراب صورت حال کو جواز بنائے ہوئے وزیراعلیٰ میاں ممتاز دولتانہ کی حکومت کو بھی برطرف کر دیا گیا۔
شہباز حکومت کا خاتمہ – 1999
شہبازشریف، جنہوں نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی منظوری دی، ماضی میں 2 مرتبہ خود بھی اس آئینی ہتھیار کا نشانہ بن چکے ہیں۔
اکتوبر 1999ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ 12 اکتوبر کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ایمرجنسی نافذ کی تو ملک دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت بھی ختم ہوگئی اور صوبے کا انتظام براہِ راست گورنر پنجاب کو سونپ دیا گیا تھا۔ پنجاب میں دوسرا گورنر راج 23 نومبر 2002ء تک جاری رہا۔
شہباز شریف کی دوسری حکومت کا خاتمہ- 2009
پنجاب میں تیسری مرتبہ 25 فروری 2009ء کو گورنر راج نافذ ہوا، جس کی بنیاد سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بنا جس میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ سامنے آتے ہی صدر مملکت آصف علی زرداری نے فوری طور پر پنجاب میں آرٹیکل 234 کے تحت دو ماہ کے لیے گورنر راج لگا دیا اور سلمان تاثیر نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ تاہم اس مرتبہ ایک اہم فرق یہ تھا کہ پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا بلکہ صرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان کو اپنے عہدوں پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
سندھ میں پہلا گورنر راج – 1951
پنجاب کی طرح سندھ میں بھی تین مرتبہ گورنر راج لگایا جاچکا ہے۔ ملکی تاریخ کے گورنر راج کے صرف دو سال بعد 1951ء میں سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو اور انکی کابینہ کو بھی گورنر راج کے نتیجے میں گھر جانا پڑا تھا۔
ایوب کھوڑو (سندھ اسمبلی آرکائیو)
اُس وقت کے قائداعظم محمد علی جناح ملک کے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیراعظم تھے۔ وفاقی حکومت نے ایوب کھوڑو کی حکومت کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت برطرف کرکے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا اور 1953ء تک میاں امین الدین نے بطور گورنر صوبے کا انتظام سنبھالا۔
اس سے قبل قائداعظم کے احکامات پر اپریل 1948ء میں بھی ایوب کھوڑو کی حکومت کو انہی الزامات کے تحت برطرف کیا گیا تھا تاہم اس وقت گورنر راج کے بجائے ’پروڈا‘ (پبلک اینڈ ریپریزینٹیٹیو آفس ڈِس کوالیفیکیشن ایکٹ) نامی قانون کا سہارا لیا گیا تھا۔
سندھ میں دوسرا گورنر راج
سندھ میں گورنر راج کا دوسرا دور 68 روز پر محیط تھا، جو 24 جون 1988ء کو شروع ہو کر 31 اگست 1988ء کو ختم ہوا۔
اختر علی غلام قاضی (سندھ اسمبلی آرکائیو)
یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب صوبے میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں پر مشتمل حکومت قائم تھی، جس کے وزیراعلیٰ اختر علی غلام قاضی تھے۔
اُس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی کی برطرفی کے ساتھ ہی تمام صوبائی حکومتیں بھی ختم کیں تو وزیر اعلیٰ اختر علی غلام قاضی کی حکومت بھی اس فیصلے کی زد میں آئی۔
جنرل ضیاء الحق نے جنرل (ر) رحیم الدین خان کو گورنر مقرر کرکے گورنر راج کے تحت غیر محدود اختیارات تفویض کیے۔ 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے گورنر راج ختم کرنے کا اعلان کیا اور عام انتخابات کے لیے اختر علی غلام قاضی دوبارہ نگراں وزیرِاعلیٰ سندھ مقرر ہوئے۔
اختر علی غلام قاضی سندھ کے واحد برسرِاقتدار (نگراں) وزیراعلیٰ تھے جو اپنے ہی دورِ حکومت میں ہونے والے عام انتخابات ہار گئے تھے۔ 1988 میں جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات سید قائم علی شاہ پہلی مرتبہ وزیرِاعلیٰ سندھ منتخب ہوئے تھے۔
حکیم سعید کا قتل – 1998
یہ سندھ کی تاریخ کا اہم ترین گورنر راج تھا۔ اکتوبر 1998ء میں کراچی میں نامور علمی شخصیت اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کو شہید کر دیا گیا۔ اُس وقت سندھ میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کی اتحادی حکومت قائم تھی اور لیاقت جتوئی وزیراعلیٰ تھے۔
لیاقت جتوئی (سندھ اسمبلی آرکائیو)
اس ہائی پروفائل قتل کے بعد کراچی اور سندھ بھر میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی ہی اتحادی حکومت کو معطل کر کے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ اس دوران معین الدین حیدر بطور صوبے کا نظام چلاتے رہے اور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے تک صوبے میں گورنر راج نافذ رہا۔
صوبہ سرحد میں گورنر راج – 1975
سنہ 1973ء کے آئین کے تحت کسی صوبے میں پہلا باقاعدہ گورنر راج 16 فروری 1975ء کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں نافذ کیا گیا جو 76 روز تک نافذ رہا۔
فروری 1975 میں پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔
سردار عنایت اللہ گنڈاپور
وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کو گھر جانا پڑا اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے۔
سرحد میں دوسرا گورنر راج – 1994
صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا جب بینظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان تھیں اور پیر صابر شاہ صوبے میں مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی اتحادی حکومت کے وزیرِاعلیٰ تھے۔
صدرِ پاکستان فاروق لغاری نے 25 فروری 1994 کو وفاقی حکومت کی سفارش پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت دہ ماہ کے لیے گورنر راج کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا جو 24 اپریل 1994ء تک جاری رہا۔
سرحد میں تیسرا گورنر راج – 1999
اکتوبر 1999ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک بھر میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پورا وفاقی اور صوبائی جمہوری ڈھانچہ لپیٹ دیا گیا، لہٰذا صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ مہتاب عباسی کو گھر جانا پڑا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔
سرھد میں تیسرا گورنر راج 3 سال سے زائد عرصے تک جاری رہا جو نومبر 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی کے بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے تک برقرار رہا۔ اس عرصے کو صوبے کی تاریخ کا طویل ترین گورنر راج قرار دیا جاتا ہے۔
چوتھا گورنر راج – 2026
اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں نافذ کردیے گئے ہیں۔ ایوان صدر کے اعلامیے میں اس اقدام کی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔
صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کے بعد اب صوبے کے تمام ایگزیکٹیو اختیارات پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوگئے ہیں جب کہ آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
صدارتی حکم نامے کے مطابق سابقہ فاٹا اور اس سے متصل دیگر قبائلی اضلاع میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جبکہ شدید بدامنی سے متاثرہ 12 مخصوص اضلاع جس میں کُرم، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں، کے انتظامی معاملات کو الگ اور خصوصی حکمتِ عملی کے تحت دیکھا جائے گا۔
بلوچستان میں گورنر راج – 1973 تا 2013
صوبہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں اب تک 4 مرتبہ گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ صوبے کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ 15 فروری 1973 کو کسی منتخب حکومت پر وفاق نے گورنر راج کا آئینی اختیار استعمال کیا اور اس کے لیے جس واقعے کو بنیاد بنایا گیا وہ انتہائی خطرناک تھا۔
سردار عطاء اللہ مینگل
بلوچستان میں مفتی محمود کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی اتحادی حکومت قائم تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی برآمدگی کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو ان کی جماعت (نیشنل عوامی پارٹی) پر بغاوت اور مرکز کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے الزامات پر برطرف کر دیا۔
وزیراعلیٰ کی برطرفی کے ساتھ ساتھ گورنر میر غوث بخش بزنجو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور نواب اکبر بگٹی کو بلوچستان کا نیا گورنر مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد صوبے میں ایک طویل فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عطاء اللہ مینگل کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صوبہ سرحد (کے پی) کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
بلوچستان میں دسمبر 1975ء میں دوسرا گورنر راج بھی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہی لگا جس کے تحت وزیراعلیٰ جام میر غلام قادر خان کی جگہ صوبے کے اختیارات گورنر میر احمد یار خان (خان آف قلات) کو تفویض کردیے گئے تھے۔
جام میر غلام قادر خان
اس گورنر راج کی بنیادی وجہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید بدامنی، قبائلی تصادم اور صوبائی انتظامیہ کی ناکامی و مبینہ کرپشن کی شکایات کو قرار دیا گیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سفارش پر صدر مملکت فضل الہٰی چوہدری نے صوبے میں انتظامی نظم و نسق کو بحال کرنے کے لیے گورنر راج نافذ کیا جو تقریباً ایک سال (دسمبر 1975ء سے دسمبر 1976ء) تک برقرار رہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر راج کے دوران وفاق نے گورنر میر احمد یار خان کی انتظامی امور چلانے میں معاونت کے لیے جو پانچ مشیر مقرر کیے ان میں سے ایک خود سابق وزیر اعلیٰ جام میر غلام قادر خان ہی تھے، جن کی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں تیسری مرتبہ منتخب حکومت کے خاتمے کی وجہ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد لگائی گئی ایمرجنسی بنی۔
میر جان محمد جمالی
اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے وزیرِاعظم نواز شریف کی وفاقی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک بھر میں نافذ کی گئی ’ایمرجنسی‘ کے نتیجے میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) اور قوم پرست جماعتوں کی اتحادی حکومت بھی ختم ہوگئی۔
اس وقت میر جان محمد جمالی وزیرِاعلیٰ بلوچستان تھے جو بعد ازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی رہے۔
گورنر بلوچستان سید فضل آغا نے ایمرجنسی نافذ ہوتے ہی گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) امیر الملک گورنر مقرر ہوئے۔ چوں کہ صوبائی اسمبلی اور وزیرِاعلیٰ کی معطلی کے باعث وہ اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات تک صوبہ بلوچستان کے چیف ایگزیکٹیو رہے۔
بلوچستان میں چوتھا گورنر راج 14 جنوری 2013ء سے 13 مارچ 2013ء تک نافذ رہا۔
جنوری 2013ء میں کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ پر یکے بعد دیگرے خوفناک بم دھماکے ہوئے، جن میں ہزارہ برادری کے 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
نواب اسلم رئیسانی
وزیرِاعلیٰ نواب اسلم رئیسانی بیرون ملک کے دورے پر تھے تاہم ان کے غیر سنجیدہ بیانات کے باعث عوامی غصہ عروج پر تھا۔ ہزارہ برادری نے مقتولین کی لاشوں کے ساتھ شدید سردی اور بارش میں علمدار روڈ پر تین دن تک دھرنا دیا اور ان کے مطالبات میں صوبائی حکومت کی برطرفی سرفہرست تھا۔
احتجاجی تحریک ملک بھر میں پھیلنے کے بعد وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف خود کوئٹہ پہنچے اور 13 جنوری 2013ء کو آئین کے ’آرٹیکل 234‘ کے تحت اسلم رئیسانی کو برطرف کر کے صوبے میں 2 ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ صدارتی حکم نامے کے تحت گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کا چیف ایگزیکٹیو مقرر کیا گیا۔
چوں کہ ’آرٹیکل 234‘ کے تحت لگائے گئے گورنر راج کی دو ماہ کی آئینی مدت 13 مارچ 2013ء کو ختم ہو رہی تھی، لہٰذا وفاقی حکومت نے اس میں توسیع کے بجائے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو چند دنوں کے لیے بحال کر دیا۔ گورنر راج کے خاتمے کے بعد نواب اسلم رئیسانی اور اپوزیشن لیڈر نواب زادہ طارق مگسی نے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے نواب غوث بخش باروزئی کے نام پر اتفاق کیا۔
پاکستان میں گورنر راج کے نفاذ کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے نفاذ کے نتائج ہر مرتبہ یکساں نہیں رہے۔ بعض مواقع پر اسمبلیاں تحلیل کی گئیں، بعض میں صوبائی حکومت اور کابینہ کو عہدوں سے ہٹایا گیا، جبکہ بعض صورتوں میں اسمبلی برقرار رہنے کے باوجود انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہوئے۔
یوں سندھ اور پنجاب میں 3،3 مرتبہ جب کہ خیبر پختونخوا (سابقہ سرحد) اور بلوچستان میں منتخب حکومتیں 4،4 مرتبہ وفاقی اقدامات کے ذریعے ختم یا معطل کی جاچکی ہیں۔