پاکستان میں کب کب گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو گھر بھیجا گیا؟


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وفاق اور کسی مخصوص صوبے کے تعلقات میں جب بھی نازک موڑ آیا، سیاسی اختلافات نے شدت اختیار کی یا صوبے میں امن و امان کا بحران پیدا ہوا تو وفاق کی جانب سے اکثر ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ جیسے آئینی ہتھیار استعمال کیےجاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک، ملک کے ہر صوبے نے کم از کم ایک بار ان دونوں یا کسی ایک کا سامنا ضرور کیا ہے۔ 11 اکتوبر کو ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں یہ دونوں آئینی اختیارات ایک ساتھ نافذ ہوچکے ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ’ایمرجنسی‘ اور ’گورنر راج‘ نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کے بعد منتخب صوبائی حکومت کے تمام اختیارات بیوروکریسی اور گورنر کو حاصل ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ’گورنر راج‘ اور ’ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری دی۔
وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر مملکت کی توثیق کے بعد گورنر راج کے تحت خیبر پختونخوا کے تمام انتظامی معاملات کی باگ ڈور اور نگرانی کے اختیارات گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو حاصل ہوگئے ہیں۔
پاکستان میں مرکز نے صوبائی حکومتوں کے اختیارات کب، کن بنیادوں پر اور کس آئینی طریقے سے اپنے ہاتھ میں لیے؟ اس کا جائزہ لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’ایمرجنسی‘ یا ’گورنر راج‘ میں کیا فرق ہے اور کیا واقعی آئین وفاق کو ایک منتخب وزیراعلیٰ اور اس کی کابینہ کو بے دخل کر کے تمام اختیارات کسی بیوروکریٹ یا گورنر کے ہاتھ میں دینے کا اختیار دیتا ہے؟
آئینِ پاکستان کا ’حصہ 10‘ کسی بھی صوبے میں ’گورنر راج‘ یا ’ایمرجنسی‘ کے نفاذ سے کی وضاحت کرتا ہے۔ وفاق جب بھی کسی صوبے کا نظام اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو ’حصہ 10‘ کی تین بنیادی آئینی دفعات ’آرٹیکل 232‘، ’آرٹیکل 234‘ یا ’آرٹیکل 235‘ کا سہارا لیتا ہے۔
ایمرجنسی
‘آرٹیکل 232‘ ملکی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا شدید اندرونی خلفشار (جسے صوبائی حکومت کنٹرول نہ کر سکے) جیسے خطرات کی صورت میں صدر کو ایمرجنسی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ اس صورتِ حال میں صوبائی اسمبلی برقرار رہی ہے تاہم صوبائی معاملات پر قانون سازی کا وسیع اختیار بھی وفاق کے پاس آجاتا ہے۔
گورنر راج
‘آرٹیکل 234‘ کے مطابق اگر صدر کو گورنر کی رپورٹ یا کسی اور ذریعے سے یقین ہو جائے کہ صوبائی حکومت صوبے کا نظام آئین کے مطابق چلانے میں ناکام ہوچکی ہے تو وہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کو معطل یا تحلیل کر کے تمام انتظامی اختیارات وفاق کے نمائندے یعنی گورنر کے سپرد کر سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مرکز اور صوبوں کے درمیان رسہ کشی اور تناؤ کی ایک طویل داستان ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے لے کر آج تک ملک کے ہر صوبے نے کم از کم ایک بار اس کڑوے گھونٹ کا ذائقہ ضرور چکھا ہے۔
پنجاب میں گورنر راج کی تاریخ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں 1949ء سے 2009ء تک تین مرتبہ صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے ہاتھ میں آئے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی مختلف ادوار کے دوران گورنر راج نافذ کیا گیا۔
پاکستام میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی تاریخ
پنجاب – پہلا گورنر راج
پاکستان کی تاریخ میں تین مرتبہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے ہاتھ میں آئے۔
ملک کا پہلا باقاعدہ گورنر راج بھی جنوری 1949ء میں پنجاب میں ہی لگایا گیا تھا جس کا نشانہ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت بنی تھی جسے کرپشن، اقربا پروری اور مِس مینجمنٹ کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا۔ تاہم لیکن تاریخی حوالہ جات کے مطابق وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ کی برطرفی کی اصل وجہ ان کے مرکز اور اپنے ہی وزیرِ خزانہ ممتاز دولتانہ سے شدید اختلافات تھے۔
اگرچہ خیبرپختونخوا میں حالیہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کے لیے 1973 کے آئین کا سہارا لیا گیا ہے۔ لیکن چوں کہ 1949ء میں ملک کا باقاعدہ آئین وجود میں نہیں آیا تھا، لہٰذا وزیراعظم لیاقت علی خان نے افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت کو ہٹانے کے لیے عارضی آئین یعنی ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935‘ (دفعہ 92 اے) کا استعمال کیا اور تمام اختیارات گورنر فرانسس موڈی کے سپرد کر دیے تھے۔
پنجاب میں پہلا گورنر راج 1951ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے بعد ختم ہوا، جس کے نتیجے میں میاں ممتاز دولتانہ نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم 1953ء میں پنجاب میں امن و امان کی خراب صورت حال کو جواز بنائے ہوئے وزیراعلیٰ میاں ممتاز دولتانہ کی حکومت کو بھی برطرف کر دیا گیا۔
شہباز حکومت کا خاتمہ – 1999
شہبازشریف، جنہوں نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی منظوری دی، ماضی میں 2 مرتبہ خود بھی اس آئینی ہتھیار کا نشانہ بن چکے ہیں۔
اکتوبر 1999ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ 12 اکتوبر کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ایمرجنسی نافذ کی تو ملک دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت بھی ختم ہوگئی اور صوبے کا انتظام براہِ راست گورنر پنجاب کو سونپ دیا گیا تھا۔ پنجاب میں دوسرا گورنر راج 23 نومبر 2002ء تک جاری رہا۔
شہباز حکومت میں دوسرا گورنر راج- 2009
پنجاب میں تیسری مرتبہ 25 فروری 2009ء کو گورنر راج نافذ ہوا، جس کی بنیاد سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بنا جس میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ سامنے آتے ہی صدر مملکت آصف علی زرداری نے فوری طور پر پنجاب میں آرٹیکل 234 کے تحت دو ماہ کے لیے گورنر راج لگا دیا اور سلمان تاثیر نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ تاہم اس مرتبہ ایک اہم فرق یہ تھا کہ پنجاب اسمبلی کو معطل نہیں کیا گیا بلکہ صرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان کو اپنے عہدوں پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
سندھ میں پہلا گورنر راج – 1951
پنجاب کی طرح سندھ میں بھی تین مرتبہ گورنر راج لگایا جاچکا ہے۔ ملکی تاریخ کے گورنر راج کے صرف دو سال بعد 1951ء میں سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو اور انکی کابینہ کو بھی گورنر راج کے نتیجے میں گھر جانا پڑا تھا۔
اُس وقت کے قائداعظم محمد علی جناح ملک کے گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیراعظم تھے۔ وفاقی حکومت نے ایوب کھوڑو کی حکومت کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت برطرف کرکے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا اور 1953ء تک میاں امین الدین نے بطور گورنر صوبے کا انتظام سنبھالا۔
اس سے قبل قائداعظم کے احکامات پر اپریل 1948ء میں بھی ایوب کھوڑو کی حکومت کو انہی الزامات کے تحت برطرف کیا گیا تھا تاہم اس وقت گورنر راج کے بجائے ’پروڈا‘ (پبلک اینڈ ریپریزینٹیٹیو آفس ڈِس کوالیفیکیشن ایکٹ) نامی قانون کا سہارا لیا گیا تھا۔
سندھ میں دوسرا گورنر راج
مئی 1988ء میں اُس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کی وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی کی برطرفی کے ساتھ ہی صوبائی حکومتیں بھی ختم کر دی گئیں۔ سندھ میں اُس وقت غوث علی شاہ وزیراعلیٰ تھے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں جنرل (ر) رحیم الدین خان کو گورنر راج کے تحت غیر محدود اختیارات دے دیے گئے۔ سندھ میں دوسرا گورنر صدر ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے اور نومبر 1988ء کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی قائم علی شاہ کی حکومت کے ساتھ ختم ہوا۔
حکیم سعید کا قتل – 1998
یہ سندھ کی تاریخ کا اہم ترین گورنر راج تھا۔ اکتوبر 1998ء میں کراچی میں نامور علمی شخصیت اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کو شہید کر دیا گیا۔ اُس وقت سندھ میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کی اتحادی حکومت قائم تھی اور لیاقت جتوئی وزیراعلیٰ تھے۔
اس ہائی پروفائل قتل کے بعد کراچی اور سندھ بھر میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی ہی اتحادی حکومت کو معطل کر کے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ اس دوران معین الدین حیدر بطور صوبے کا نظام چلاتے رہے اور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے تک صوبے میں گورنر راج نافذ رہا۔
صوبہ سرحد میں گورنر راج – 1975
سنہ 1973ء کے آئین کے تحت کسی صوبے میں پہلا باقاعدہ گورنر راج 16 فروری 1975ء کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں نافذ کیا گیا جو 76 روز تک نافذ رہا۔
فروری 1975 میں پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔
وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کو گھر جانا پڑا اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے۔
سرحد میں دوسرا گورنر راج – 1994
صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا جب بینظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان تھیں اور پیر صابر شاہ صوبے میں مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی اتحادی حکومت کے وزیرِاعلیٰ تھے۔
صدرِ پاکستان فاروق لغاری نے 25 فروری 1994 کو وفاقی حکومت کی سفارش پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت دہ ماہ کے لیے گورنر راج کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا جو 24 اپریل 1994ء تک جاری رہا۔
سرحد میں تیسرا گورنر راج – 1999
اکتوبر 1999ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک بھر میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پورا وفاقی اور صوبائی جمہوری ڈھانچہ لپیٹ دیا گیا، لہٰذا صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ مہتاب عباسی کو گھر جانا پڑا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔
سرھد میں تیسرا گورنر راج 3 سال سے زائد عرصے تک جاری رہا جو نومبر 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی کے بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے تک برقرار رہا۔ اس عرصے کو صوبے کی تاریخ کا طویل ترین گورنر راج قرار دیا جاتا ہے۔
بلوچستان کے گورنر راج – 1973 تا 2013
صوبہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں اب تک 4 مرتبہ گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ صوبے کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ 15 فروری 1973 کو کسی منتخب حکومت پر وفاق نے گورنر راج کا آئینی اختیار استعمال کیا اور اس کے لیے جس واقعے کو بنیاد بنایا گیا وہ انتہائی خطرناک تھا۔
بلوچستان میں مفتی محمود کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی اتحادی حکومت قائم تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی برآمدگی کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو ان کی جماعت (نیشنل عوامی پارٹی) پر بغاوت اور مرکز کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے الزامات پر برطرف کر دیا۔
وزیراعلیٰ کی برطرفی کے ساتھ ساتھ گورنر میر غوث بخش بزنجو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور نواب اکبر بگٹی کو بلوچستان کا نیا گورنر مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد صوبے میں ایک طویل فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عطاء اللہ مینگل کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صوبہ سرحد (کے پی) کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
بلوچستان میں دسمبر 1975ء میں دوسرا گورنر راج بھی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہی لگا جس کے تحت وزیراعلیٰ جام میر غلام قادر خان کی جگہ صوبے کے اختیارات گورنر میر احمد یار خان (خان آف قلات) کو تفویض کردیے گئے تھے۔
اس گورنر راج کی بنیادی وجہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید بدامنی، قبائلی تصادم اور صوبائی انتظامیہ کی ناکامی و مبینہ کرپشن کی شکایات کو قرار دیا گیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سفارش پر صدر فضل الٰہی چوہدری نے صوبے میں انتظامی نظم و نسق کو بحال کرنے کے لیے گورنر راج نافذ کیا جو تقریباً ایک سال (دسمبر 1975ء سے دسمبر 1976ء) تک برقرار رہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر راج کے دوران وفاق نے گورنر میر احمد یار خان کی انتظامی امور چلانے میں معاونت کے لیے جو پانچ مشیر مقرر کیے ان میں سے ایک سابق وزیر اعلیٰ جام میر غلام قادر خان تھے، جن کی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔
صوبہ بلوچستان میں تیسری مرتبہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی وجہ پورے ملک میں لگنے والے ’قومی ایمرجنسی‘ تھی، جو 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ کی گئی تھی۔
اس وقت میر جان محمد جمالی ہی بلوچستان کے منتخب وزیرِ اعلیٰ تھے اور مرکز میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی حکومت بھی ختم کر دی گئی تھی۔ یہ گورنر راج بھی 2002ء کے عام انتخابات تک برقرار رہا اور اس تین سالہ طویل عرصے کے دوران بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور اُس وقت کے گورنر جسٹس (ر) امیر الملک مینگل صوبائی حکومت کے نگران رہے۔
بلوچستان میں چوتھا گورنر راج 14 جنوری 2013ء سے 13 مارچ 2013ء تک نافذ رہا۔
جنوری 2013ء میں کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ پر یکے بعد دیگرے خوفناک بم دھماکے ہوئے، جن میں ہزارہ برادری کے 100 سے زائد افراد جاں بھق ہوئے۔ ہزارہ برادری نے مقتولین کی لاشوں کے ساتھ شدید سردی اور بارش میں علمدار روڈ پر تین دن تک دھرنا دیا، ان کے مطالبات مین صوبائی حکومت کی برطرف کا مطالبہ شامل تھا۔
ملک گیر احتجاج کے بعد وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف خود کوئٹہ پہنچے اور 13 جنوری 2013ء کو آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اسلم رئیسانی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں 2 ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
صدارتی حکم نامے کے تحت گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کا چیف ایگزیکٹیو مقرر کیا گیا۔ چوں کہ ’آرٹیکل 234‘ کے تحت لگائے گئے گورنر راج کی دو ماہ کی آئینی مدت 13 مارچ 2013ء کو ختم ہو رہی تھی، لہٰذا وفاقی حکومت نے اس میں توسیع کے بجائے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو چند دنوں کے لیے بحال کیا۔
گورنر راج کے خاتمے کے بعد نواب اسلم رئیسانی اور اپوزیشن لیڈر نواب زادہ طارق مگسی نے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے نواب غوث بخش باروزئی کے نام پر اتفاق کیا۔
یوں دیگر سندھ اور پنجاب نے 3،3 مرتبہ جب کہ صوبہ خیبر پختونخوا (سابقہ سرحد) اور بلوچستان میں 4،4 مرتبہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے منتخب حکومتوں کو معطل یا ختم کیا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles