
یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف یمنی فورسز کا آپریشن جاری ہے، جس کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار 750 حملے کیے گئے اور 1400 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق آپریشن کے دوران حوثیوں کے اسلحے اور گولہ بارود کے گوداموں، فوجی کیمپوں، مورچوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں حملوں میں تباہ کردیا گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں حوثیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے، جبکہ ان کی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یمنی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم، ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد اور حملوں میں ہونے والے نقصانات سے متعلق ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
اس سے قبل ماجد عبداللہ النزیلی نے ابتدائی جنگی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائیوں میں 1150 سے زیادہ جنگجوؤں کو غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے نتیجے میں 180 سے زائد جنگی اور دیگر فوجی گاڑیاں تباہ یا ناکارہ ہوگئیں۔
یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں سے حوثیوں کی نقل و حرکت، انہیں فوجی مدد فراہم کرنے اور لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یمنی حکومت کی زمینی فوج بھی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق فوج نے متعدد مقامات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے، مزید اہم بلند مقامات پر قبضہ کیا ہے اور آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے یمنی فوج کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ہلاک ہونے والے جنگجوؤں اور تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہوئی۔