ریاض ایئرپورٹ پر یمنی حوثیوں کا حملہ: 12 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے میزائل حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یہ رواں ہفتے ریاض کے ایئرپورٹ پر ہونے والا تیسرا اور گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

اس واقعے کے بعد آٹھ ملین کی آبادی والے شہر کے اہم ترین ہوائی اڈے سے تمام پروازوں کی آمد و رفت کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ خطے میں سلامتی کی صورت حال شدید ترین کشیدگی اختیار کر گئی ہے۔

سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق مارے گئے افراد میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش کے دو اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کے ایک ایک شہری شامل ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، عینی شاہدین اور ذرائع کا کہنا ہے کہ بغیر کسی سائرن یا پیشگی انتباہ کے ہونے والے اس حملے کے بعد ہوائی اڈے پر افراتفری پھیل گئی اور ڈیپارچر گیٹ کی چھت کا ایک حصہ نیچے آ گرا۔

اسپتالوں میں شدید زخمیوں کی بڑی تعداد کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے جن میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کے فوری بعد امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے کے علاقے سے دور رہنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

حوثی ذرائع ابلاغ کے سربراہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنا کر بند کر دیا ہے۔

حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے حالیہ عسکری کارروائی کے بعد تمام ایئرلائنز سعودی فضائی حدود کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ اس علاقے کو عسکری آپریشنل زون قرار دے دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم بین الاقوامی عسکری اتحاد نے اس حملے کا سخت جواب دینے کا اعادہ کرتے ہوئے حوثیوں کے ٹھکانوں پر جوابی بمباری کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے فوجی اقدامات میں شامل ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ”ہم ایسا کر سکتے ہیں، ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس حملے کی ابھی اطلاع ملی ہے اور ہم بہت جلد فیصلہ کریں گے۔“

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کھلم کھلا لاپروائی کا ثبوت ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں 2022 میں ہونے والا فائر بندی معاہدہ ختم ہونے کے بعد یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں پر جنگ ایک بار پھر شدید ہو چکی ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے ہونے والے دو حملوں میں بھی چار افراد ہلاک اور ایک تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث عالمی ایئرلائنز نے پہلے ہی ریاض کے لیے اپنی خدمات معطل کرنا شروع کر دی تھیں۔

شہر میں جلد انعقاد پذیر ہونے والی اہم عالمی توانائی اور سرمایہ کاری کانفرنسوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے پروگرام معمول کے مطابق جاری رہیں گے، تاہم سیکیورٹی کے حوالے سے نئی چیلنجنگ صورت حال نے پورے خطے کے دفاعی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles