ابھیجیت دیپکے کی گرفتاری کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں کو کیوں بھیجا گیا؟

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو طیارے سے اترنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو بھیجنے کے فیصلے نے توجہ حاصل کی۔

بھارتی ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سی جے پی کے رہنما ہفتے کے روز دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ ان کا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا تھا۔ ایئر انڈیا کی پرواز کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترتے ہی خواتین پولیس اہلکار طیارے میں داخل ہوئیں اور تینوں رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

طیارے کے اندر موجود نشستوں کے درمیان محدود جگہ اور تنگ راستوں کے باعث کسی معمولی جھگڑے کے بھی بڑے ہنگامے میں تبدیل ہونے کا خدشہ تھا۔ ایسے میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے دوران کچھ تلخ جملوں کا تبادلہ ضرور ہوا، تاہم کوئی بڑا ہنگامہ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کے طیارے میں داخل ہوتے ہی ابھیجیت دیپکے نے اپنی نشست سے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ سورَو داس درمیان والی نشست پر جبکہ آشوتوش رانکا ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر تینوں رہنماؤں نے انقلاب زندہ باد اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگائے۔

ویڈیو میں تقریباً ایک درجن خواتین پولیس اہلکاروں کو تینوں رہنماؤں کے گرد دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران ابھیجیت دیپکے نے پولیس کی کارروائی کے طریقے پر اعتراض کیا اور کہا کہ پولیس انہیں طیارے سے اترنے کے بعد بھی گرفتار کرسکتی تھی۔

ویڈیو میں دیپکے کو یہ کہتے سنا گیا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔ یہ ہمیں براہ راست طیارے سے گرفتار کرنے آئے ہیں۔ اندرا گاندھی نے بھی ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ آمریت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، میں یہاں گرفتار ہونے ہی آیا ہوں، مجھے گرفتار کرلیں۔

اس دوران خواتین پولیس اہلکار انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تعاون کرنے کی ہدایت دیتی رہیں۔ بعد ازاں تینوں رہنماؤں کو الگ الگ مقامات پر لے جایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کی اس حکمت عملی کی ایک ممکنہ وجہ 20 جولائی کو ہونے والے تشدد کے واقعات بھی ہوسکتے ہیں۔ اس روز امتحانات میں پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تھا، جس کے دوران تشدد کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔

سی جے پی نے اس وقت الزام لگایا تھا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے نوجوان خواتین پر تشدد کیا تھا۔ پارٹی کا دعویٰ تھا کہ 12 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کے سر پھاڑے گئے اور ان کے کپڑے پھاڑ دیے گئے تھے۔ تاہم یہ جماعت کے الزامات تھے۔

سی جے پی کے حامیوں میں نوجوانوں اور جنریشن زی کے افراد کی بڑی تعداد شامل بتائی جاتی ہے۔ ایسے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پولیس اس بار مرد اہلکاروں کے ذریعے کارروائی کے نتیجے میں کسی ممکنہ جھگڑے یا نئے تنازع سے بچنا چاہتی تھی۔ خواتین اہلکاروں کی موجودگی سے پولیس پر خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات لگنے کے خدشے کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہوسکتی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ دہلی پولیس نے خواتین اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ انہی وجوہات کی بنا پر کیا تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔

واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ یوٹیوبر دھرو راٹھی اور سی جے پی کے قانونی شعبے کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا۔

رتنا سنگھ کے مطابق جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھیں تو پولیس کی متعدد گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔

دہلی پولیس نے سی جے پی کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی، تاہم ابھیجیت دیپکے نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد دارالحکومت میں سیکیورٹی سخت کردی گئی اور دہلی کی سرحدوں پر بھی اضافی انتظامات کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق دہلی میٹرو کے 45 اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بند کردیے گئے، جبکہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کردی گئیں۔

یہ اقدامات ایسے وقت کیے گئے جب بھارتی سپریم کورٹ نے جمعے کے روز حکومت کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ ٹریفک کی مکمل آمدورفت پر پابندی نہ لگائی جائے اور نہ ہی ٹرینوں کی آمدورفت روکی جائے۔

اس کے باوجود دہلی میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے 23 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد سی جے پی کے جولائی میں ہونے والے احتجاج اور 2020 سے 2021 کے کسانوں کے احتجاج کے دوران تعینات اہلکاروں کی تعداد سے بھی زیادہ تھی۔

پولیس نے احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بار ان اقدامات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہنگامے اور تشدد کی صورت حال پیدا نہیں ہوئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles