
متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق فلائی دبئی کے طیارے کو ہائی جیک کرکے اسرائیل کے تل ابیب ایئرپورٹ سے ٹکرانے کی کوشش کرنے والا عمانی کو پائلٹ آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران انتہا پسندی کی طرف راغب ہوا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق 29 سالہ کو پائلٹ ہمام الہمامی نے گزشتہ ماہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کے وقت طیارے میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے، تاہم عملے اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے طیارے کو ہائی جیک ہونے سے بچا لیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی کے مطابق سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 2017 میں آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران اس نے تکفیری نظریات اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت پر مبنی آن لائن مواد پڑھنا شروع کیا تھا۔
ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے کارروائی کے لیے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا اور ایک نجی کوچ سے باکسنگ کی تربیت بھی حاصل کی۔
حکام کے مطابق ملزم کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ کارروائی اکیلے کی، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے مطابق ملزم کو 2014 میں آسٹریلیا کا اسٹوڈنٹ ویزا جاری کیا گیا تھا اور اس نے 2015 سے 2017 کے دوران ملبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، تاہم ڈگری مکمل کیے بغیر واپس چلا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آسٹریلیا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ میں گزارے گئے پانچ برسوں کو اپنے مذہبی لگاؤ کا بہترین دور قرار دیا تھا۔ واقعے کے بعد آسٹریلیا کی وفاقی پولیس، وکٹوریہ پولیس اور سیکیورٹی ایجنسی اے ایس آئی او پر مشتمل مشترکہ انسدادِ دہشت گردی ٹیم نے ملزم کے آسٹریلیا سے روابط کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق کو پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود بھارتی نژاد کپتان سمت مچھار کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا، جس کے بعد مسافروں نے اندر داخل ہوکر حملہ آور کو قابو کرلیا۔ بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا گیا۔ کپتان کی کارروائی کو سراہا گیا۔
اس واقعے کے بعد فلائی دبئی کے سیکیورٹی اور بھرتی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ علاقائی حکام کے مطابق ملزم کو اس کے انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے عمان کی قومی ایئرلائن عمان ایئر میں پروازوں سے ہٹا کر انتظامی عہدے پر منتقل کردیا گیا تھا۔
بعد ازاں اسے فلائی دبئی میں ملازمت مل گئی۔ اب تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ بھرتی کے دوران اس کے سابقہ ریکارڈ اور پس منظر کی جانچ کس حد تک کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ہوا بازی کے قوانین کے تحت عمان جیسے ممالک کی ایئرلائنز کے لیے اسرائیل کے لیے پروازیں چلانے پر پابندیاں بھی اس معاملے میں زیرِ بحث ہیں، کیونکہ عمان کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ حکام کی جانب سے واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔