یو اے ای: قتل کا قصاص معاف ہونے پر کتنے سال قید بھگتنی ہوگی؟

متحدہ عرب امارات نے قتل کے مقدمات میں سزاؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قصاص معاف ہونے کی صورت میں بھی قید کی کم از کم مدت 7 سال سے بڑھا کر 15 سے 20 سال کردی گئی ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق، وفاقی فرمان کے ذریعے جرائم اور سزاؤں سے متعلق قانون کے آرٹیکل 384 کی شق 3 میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس کے تحت قصاص معاف ہونے پر کم از کم قید کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 15 سال جبکہ زیادہ سے زیادہ سزا 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے۔

نئے قانون کے تحت یہ سزا اس وقت لاگو ہوگی جب مقتول کے قانونی ورثاء عدالتی کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر یا سزا پر عمل درآمد سے پہلے قصاص معاف کر دیں۔ اس طرح ورثاء کی معافی کے باوجود مجرم کو قید کی سزا سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

امل الراشدی لا فرم کے قانونی مشیر ڈاکٹر حسن الحیس کے مطابق، سابقہ قانون میں قصاص معاف ہونے کی صورت میں کم از کم 7 سال قید کی سزا مقرر تھی، تاہم ترمیم کے بعد سزا کی مدت 15 سے 20 سال کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورثاء کی جانب سے قصاص معاف کرنے سے مجرم کی فوجداری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے خلاف ریاست کی جانب سے سزا برقرار رہتی ہے۔

اسلامی قانون کے تحت قصاص عمدًا قتل کے معاملے میں بدلے کی سزا ہے، جس میں قانونی شرائط پوری ہونے اور عدالت کے فیصلے کے مطابق سزائے موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم مقتول کے قانونی ورثاء کو قصاص معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس معافی کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم بری ہوگیا یا اس کے خلاف تمام قانونی کارروائی ختم ہوگئی۔

ترمیم کے بعد عدالتیں جرم کے حالات اور متعلقہ قانونی ضوابط کا جائزہ لے کر 15 سے 20 سال کے درمیان قید کی مناسب مدت مقرر کریں گی۔ ڈاکٹر حسن الحیس نے وضاحت کی کہ قصاص معاف ہونے سے ہر صورت میں سزائے موت کا امکان ختم نہیں ہوتا۔ اگر معاملہ کسی الگ جرم سے متعلق ہو جس کے لیے قانون میں علیحدہ طور پر سزائے موت مقرر ہے تو قصاص سے دستبرداری خودبخود اس سزا کو ختم نہیں کرتی۔

خودکشی کی کوشش جرم نہیں ہوگی

متحدہ عرب امارات کے جرائم اور سزاؤں سے متعلق قانون میں قصاص کے علاوہ بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ خلیج ٹائمز کے مطابق، نئی ترمیم کے تحت خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے، تاکہ نفسیاتی مشکلات یا شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر علاج اور مدد حاصل کر سکیں۔

حکومت کے مطابق، اس تبدیلی کا مقصد ایسے افراد کو سزا دینے کے بجائے ان کی دیکھ بھال، علاج اور بحالی پر توجہ دینا ہے، تاکہ وہ بروقت طبی اور نفسیاتی معاونت حاصل کر سکیں۔

دوسری جانب، خودکشی پر اکسانے یا اس میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ اگر کسی شخص کو خودکشی پر اکسانے یا اس میں مدد دینے کے نتیجے میں موت واقع ہو جائے تو ذمہ دار افراد کو 5 سے 7 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles