سعودی عرب کا جدہ ٹاور 474 میٹر بلند، امریکی عمارت کا ریکارڈ توڑ دیا

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین عمارت جدہ ٹاورکی بلندی اپنے تعمیری مرحلے میں تقریباً 474 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد یہ نامکمل عمارت بھی دنیا کی کئی مکمل شدہ بلند ترین عمارتوں کے برابر آ کھڑی ہوئی ہے۔

جدہ ٹاور کی تعمیر کے دوران 118ویں منزل تک پہنچنے اور کنکریٹ ڈالنے کا تازہ مرحلہ مکمل ہونے کی اطلاع سعودی بن لادن گروپ کے سینئر ایگزیکٹو پراجیکٹ ڈائریکٹر اور تعمیراتی ٹیم کے سربراہ ایان نارمن ملر نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ کے ذریعے دی۔

اس وقت جدہ ٹاور کی بلندی نیویارک کے سینٹرل پارک ٹاور اور چین کے ووہان گرین لینڈ سینٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبی ٹیٹ کے مطابق، سینٹرل پارک ٹاور کی تعمیراتی بلندی 472.4 میٹر جبکہ ووہان گرین لینڈ سینٹر کی بلندی 475.6 میٹر ہے۔

تاہم ان دونوں عمارتوں کے برعکس جدہ ٹاور کی تعمیر ابھی جاری ہے اور اس کی حتمی بلندی ایک ہزار میٹر سے زیادہ رکھنے کا منصوبہ ہے۔

تعمیر مکمل ہونے پر یہ دبئی کی برج خلیفہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی بلند ترین عمارت بن سکتا ہے۔ برج خلیفہ کی بلندی 828 میٹر ہے، اس طرح مجوزہ منصوبے کے مطابق جدہ ٹاور اس سے کم از کم 172 میٹر زیادہ بلند ہوگا۔

جدہ ٹاور کی ساخت کو خاص کیوں بنایا گیا؟

دنیا کی انتہائی بلند عمارتوں کی تعمیر میں صرف زیادہ اونچائی حاصل کرنا ہی چیلنج نہیں ہوتا بلکہ تیز ہواؤں کے دباؤ اور عمارت کے استحکام کو برقرار رکھنا بھی اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے جدہ ٹاور کی ساخت کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ عمارت کی بلندی بڑھنے کے ساتھ ہوا کے دباؤ سے پیدا ہونے والے اثرات کو کم کیا جاسکے۔

اس عمارت کا ڈیزائن بتدریج پتلا ہوتا جاتا ہے اور اس کی بنیاد تین شاخوں جیسی ساخت پر مشتمل ہے۔ عمارت کی شکل میں بلندی کے ساتھ تبدیلیاں بھی اسی مقصد کے تحت کی گئی ہیں تاکہ ہوا کا دباؤ کسی ایک حصے پر مسلسل ایک ہی انداز میں اثر انداز نہ ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدہ ٹاور، سینٹرل پارک ٹاور اور ووہان گرین لینڈ سینٹر کے ڈیزائن میں ایک مشترک پہلو بھی ہے۔ تینوں عمارتوں کے ڈیزائن شکاگو میں قائم آرکیٹیکچر فرم ایڈرین اسمتھ پلس گورڈن گل آرکیٹیکچر نے تیار کیے، جبکہ ان پر ہوا کے اثرات اور انجینئرنگ سے متعلق کام کینیڈا کی ماہر کمپنی آر ڈبلیو ڈی آئی نے کیا۔

 (نیویارک کا سینٹرل پارک ٹاور اور چین کا ووہان گرین لینڈ سینٹر )
(نیویارک کا سینٹرل پارک ٹاور اور چین کا ووہان گرین لینڈ سینٹر )

ووہان گرین لینڈ سینٹر کی ساخت بھی اوپر کی جانب بتدریج پتلی ہوتی جاتی ہے، جبکہ اس کی تکونی بنیاد کو تیز ہواؤں اور زلزلوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیویارک کا سینٹرل پارک ٹاور اپنی پتلی ساخت اور خصوصی انجینئرنگ کی مدد سے مین ہٹن کے بلند ترین رہائشی علاقے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

تعمیراتی کام میں دوبارہ پیش رفت

جدہ ٹاور کا منصوبہ طویل عرصے تک تعمیراتی کام رکنے کے باعث بھی خبروں میں رہا ہے، تاہم اب تعمیر دوبارہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سعودی بن لادن گروپ اس منصوبے میں مرکزی تعمیراتی کام انجام دے رہا ہے، جس کا مجموعی تعمیر شدہ رقبہ تقریباً 5 لاکھ 30 ہزار مربع میٹر بتایا گیا ہے۔

ایان نارمن ملر نے 118ویں منزل تک کام محفوظ طریقے سے مکمل کرنے پر رات کی شفٹ میں کام کرنے والی ٹیم کو سراہا۔ اس ٹیم کی قیادت پراکاش پانڈا اور کبیلان گوپال کرشنا کر رہے تھے، جبکہ ان کی نگرانی فہد جمال الدین کے تحت کی جا رہی تھی۔

یہ پیش رفت اس منصوبے کے لیے ایک نمایاں سنگ میل ہے، کیونکہ موجودہ بلندی پر ہی جدہ ٹاور دنیا کی بلند ترین عمارتوں کی صف میں شامل ہونے کے قابل ہوچکا ہے۔

عمارت میں رہائش، دفاتر اور ہوٹل بھی ہوں گے

جدہ ٹاور صرف بلندی کا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے تعمیر نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے ایک کثیرالمقاصد عمارت کے طور پر تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ تکمیل کے بعد اس میں رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر، ہوٹل، دکانیں اور ایک آبزرویشن ڈیک شامل ہوں گے، جہاں سے شہر اور اس کے اطراف کا نظارہ کیا جاسکے گا۔

یہ عمارت وسیع تر جدہ اکنامک سٹی منصوبے کا مرکزی حصہ ہے اور سعودی عرب کے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

جدہ ٹاور کو دنیا کا پہلا ایسا بلند ترین منصوبہ بھی قرار دیا جاتا ہے جسے ایک کلومیٹر سے زیادہ بلندی تک پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بعض اوقات ’’اسکائی پیئرسر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، یعنی ایسی عمارت جو بلند عمارتوں کی موجودہ حد سے آگے نکل جائے۔

جدہ ٹاور کی 118ویں منزل تک تعمیر مکمل ہونا اس منصوبے کی اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کی اصل پہچان ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ ایک ہزار میٹر سے زیادہ بلندی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیابی کے بعد یہ عمارت دبئی کی برج خلیفہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی بلند ترین عمارت بن جائے گی۔

جدہ ٹاور محض اونچائی کا ایک نیا ریکارڈ نہیں ہوگا، بلکہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ جدید تعمیراتی انجینئرنگ کی ایک نمایاں مثال بھی ہوگا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles