
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغانستان میں خواتین، لڑکیوں اور دیگر افراد پر مبینہ مظالم، بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور صنف کی بنیاد پر استحصال کے الزام میں طالبان کی اعلیٰ قیادت کے چار سینئر رہنماؤں کے باقاعدہ وارنٹِ گرفتاری کو اعلانیہ جاری کر دیا ہے۔
عالمی عدالت کے فیصلے کے تحت یہ وارنٹ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے خلاف جاری کیے گئے ہیں، جنہیں ابتداء میں ضوابط اور گواہوں کے تحفظ کی خاطر خفیہ رکھا گیا تھا۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ترجمان اور ججز کے مطابق اس بات کے معقول اور مضبوط شواہد موجود ہیں کہ یہ چاروں شخصیات روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل سات کے تحت صنف اور سیاسی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف سنگین جرائم، جن میں قتل، قید، تشدد، زبردستی گمشدگی اور بنیادی آزادیوں کی سلب کاری شامل ہے، ان کے احکامات دینے اور انہیں نافذ کرنے میں براہِ راست مجرمانہ ذمہ دار ہیں۔
عالمی عدالت کے ججز نے نشاندہی کی ہے کہ 15 اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے کم از کم 20 جنوری 2025ء تک نافذ کی جانے والی پالیسیوں نے عام آبادی بالخصوص خواتین کی زندگی اور آزادی کو شدید متاثر کیا ہے۔
عدالت کے مطابق افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، کام کی جگہوں، عام نقل و حرکت، اظہارِ رائے، مذہبی اور فکری آزادی جیسے بنیادی حقوق سے یکسر محروم کر دیا گیا اور ان افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جنہیں خواتین اور لڑکیوں کا اتحادی یا حامی سمجھا جاتا تھا۔
آئی سی سی کے سابق پراسیکیوٹر کریم خان نے گزشتہ برس ان وارنٹس کی درخواست کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ افغان خواتین، لڑکیاں اور غیر روایتی صنف سے تعلق رکھنے والے افراد طالبان کی جانب سے ایک ناگفتہ بہ اور بے مثال مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، جسے عالمی قانون میں انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اس اقدام پر افغان حکومت کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
افغان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں عالمی عدالت کے فیصلے اور وارنٹس کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان بین الاقوامی عدالت کے نام سے قائم کسی بھی ادارے یا عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے موقف اور فیصلوں کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ ہم صرف اسلامی شریعت اور اپنی افغان عدالتوں کے فیصلوں کے پابند ہیں، کسی غیر ملکی یا نام نہاد عالمی اداروں اور انٹیلی جنس کے احکامات کے نہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق اگرچہ ان وارنٹس کے اجراء کو حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم افغان طالبان کی عملی حکومت اور آئی سی سی کی اپنی سیکیورٹی یا فورسز نہ ہونے کے سبب ملزمان کی گرفتاری کا امکان فی الوقت انتہائی محدود دکھائی دیتا ہے۔