
فلائی دبئی مسافر طیارے کی دبئی سے اسرائیلی شہر تل ابیب جانے والی پرواز کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والا معاون پائلٹ اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے بین گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیلی حکام اور اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان سامنے آیا ہے کہ عمانی پائلٹ حمام الحمامی نامی مشتبہ شخص کا مقصد طیارے کو اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ کی جانب لے جانا تھا، تاہم تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اس کے اصل ارادے سے متعلق کئی سوالات کا جواب ملنا باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حمام الحمامی اسی پرواز میں معاون پائلٹ تھا۔ اس نے مبینہ طور پر طیارے کے کپتان سمت مچھر پر حملہ کرکے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تھی، تاہم کپتان اور چند مسافروں نے اسے قابو کرلیا اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے تحقیقات سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بھی سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ہائی جیکنگ کی کوشش کا ممکنہ ہدف بین گوریون ایئرپورٹ ہوسکتا تھا۔
تاہم اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر مشتبہ شخص کا مقصد اسرائیل کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا تھا تو اس نے سعودی عرب کی فضائی حدود میں طیارے کے کپتان پر حملہ کیوں کیا۔
30 ستمبر کو جب اسرائیلی حکام کو ایک مسافر طیارے سے ممکنہ ہائی جیکنگ کا سگنل ملا تو احتیاطی اقدام کے طور پر اسرائیلی جنگی طیارے بھی روانہ کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق کسی مسافر طیارے سے ہائی جیکنگ کا خدشہ ظاہر ہونے کی صورت میں ایسا کرنا معمول کا حفاظتی طریقہ کار ہے۔
متحدہ عرب امارات اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے تاکہ حملے کے مبینہ محرکات کا پتا چلایا جاسکے اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ مشتبہ شخص دو ایسے ممالک کے سخت سیکیورٹی نظام سے کیسے گزرنے میں کامیاب ہوا جہاں ہوابازی کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔
اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ پرواز کے تمام مسافروں اور عملے کے نام طیارے کے اڑان بھرنے سے پہلے ہی اسرائیلی حکام کے پاس موجود تھے۔ تاہم عملے کی جانچ پڑتال سے متعلق سوالات وزارت ٹرانسپورٹ سے کرنے کا کہا گیا ہے۔
اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیت نے بھی معاملے پر تبصرے کے بجائے وزارتِ ٹرانسپورٹ سے رجوع کرنے کا کہا۔ وزارت کے مطابق غیر ملکی ایئرلائنز سے متعلق تمام سیکیورٹی معاملات اسی کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ اس کے موجودہ طریقہ کار میں پرواز کے عملے کے ناموں کی سیکیورٹی جانچ شامل نہیں ہے، تاہم یہ نام اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کو فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ضرورت پڑنے پر ان سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔
وزارت کے مطابق تمام عملے کے ارکان کے پاس اسرائیل میں داخلے کے لیے سفری ویزا ہونا ضروری ہے اور عمانی پاسپورٹ چیک اِن کے وقت نمایاں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے موجودہ طریقہ کار میں ’’پائلٹ کی جانب سے لاحق خطرے‘‘ سے نمٹنے کا کوئی مخصوص انتظام موجود نہیں۔
دوسری جانب تحقیقات میں اب تک یہ امکان زیادہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشتبہ شخص نے مبینہ کارروائی اکیلے ہی کی۔
اسرائیلی حکام کو فی الحال کسی ایسے دہشت گرد گروپ سے اس کے تعلق کا علم نہیں جو اسے تربیت، مالی معاونت یا حملے کی منصوبہ بندی فراہم کر رہا ہو۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے بتایا کہ پرواز میں موجود معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کریش ایکس کے ذریعے اپنے ساتھی پر حملہ کرکے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس واقعے کو ’’دہشت گرد کارروائی‘‘ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق حمام الحمامی کو اس سے قبل عمان کی قومی ایئرلائن میں پائلٹ بننے کے راستے پر ملازمت سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے انتہا پسندانہ خیالات کے حوالے سے خدشات سامنے آنے کے بعد اسے پائلٹ کے بجائے دفتر کے کام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
فلائی دبئی نے تحقیقات مکمل ہونے تک واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔