اسرائیلی وزیراعظم نے برطانیہ کو ’پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ‘ قرار دے دیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ برطانیہ دنیا کی پہلی ایسی اسلامی جمہوریہ بن سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعے کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کے تاریخی یورپی اتحادی برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان جمعرات کو نشر ہونے والے اسرائیلی پوڈ کاسٹ ’’میلیخ بلٹزر حائم‘‘ میں دیا، جہاں وہ اسرائیل سے متعلق برطانوی میڈیا کی کوریج پر اعتراض کررہے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں برطانوی مصنف رینڈولف چرچل کی مثال دی اور 1967 کی 6 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے حوالے سے ان کی مثبت کوریج کو سراہا۔ اس کے بعد انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج کے برطانیہ میں ایسی کوریج تلاش کریں، جسے آپ ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔

پوڈ کاسٹ کے بعد اپنی گفتگو میں نیتن یاہو نے بظاہر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے 2022 میں دیے گئے ان ریمارکس کا بھی حوالہ دیا، جن میں انہوں نے برطانیہ کو ممکنہ طور پر دنیا کا پہلا جوہری ہتھیار رکھنے والا ’’اسلام پسند ملک‘‘ قرار دینے کی بات کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ ہوگی۔ نتین یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ایران میں ایسی کوئی دوسری اسلامی جمہوریہ نہ ہو۔

نیتن یاہو کے بیان پر برطانوی اور آئرش یہودی تنظیم موومنٹ فار پروگریسو جوڈازم نے تنقید کی۔ تنظیم کے شریک سربراہان ربی چارلی باگنسکی اور ربی جوش لیو نے کہا کہ ایسے وقت میں جب برطانیہ میں یہود دشمنی، مسلم مخالف نفرت اور سماجی تقسیم لوگوں میں حقیقی خوف پیدا کررہی ہے، اس نوعیت کی زبان خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو برطانوی یہودیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور ان کے الفاظ برطانوی یہودیوں کی ترجمانی نہیں کرتے۔

سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے سابق چیف آف اسٹاف گیون بارویل نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو ’’کھلی اسلاموفوبیا‘‘ قرار دیا۔

بارویل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امید ہے اب ہر شخص اس تاثر کو ختم کردے گا جسے اب بھی کچھ لوگ برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ نیتن یاہو برطانیہ کے دوست ہیں۔

اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان تاریخی طور پر مضبوط تعلقات رہے ہیں تاہم 2024 میں ترقی پسند لیبر پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کے دور میں برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات روک دیے تھے اور اسرائیل کو بعض اسلحہ برآمد کرنے کے لائسنس بھی معطل کیے تھے۔

برطانیہ نے فرانس کی طرح اسرائیلی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ارکان اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

گزشتہ سال برطانیہ نے فرانس اور کینیڈا سمیت اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے لیبر پارٹی کے ابتدائی ردعمل پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں بہت تاخیر کرگئی۔

برنہم کا کہنا تھا کہ غزہ میں تشدد میں ملوث افراد پر مزید پابندیوں سمیت مزید اقدامات کی ضرورت ہے جب کہ غیر قانونی بستیوں سے تجارتی سامان کی تجارت پر پابندی جیسے اقدامات بھی زیرغور آنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے بین الاقوامی تعلقات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روڈوان ابوحارب نے نیتن یاہو کے بیان کو برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ’’نئی پستی‘‘ قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے دونوں ممالک کی پالیسیوں میں نمایاں مماثلت بھی موجود ہے۔

روڈوان ابوحارب کے مطابق نیتن یاہو کے یہ ریمارکس ممکنہ طور پر اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے بھی ہوسکتے ہیں تاکہ ان کی تقسیم کا شکار حکومتی اتحادی جماعت کو مضبوط کیا جاسکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles