ہارورڈ کی بڑی قانونی جیت، ٹرمپ انتظامیہ کو شکست، یہودی طلبہ کا مقدمہ خارج

امریکی وفاقی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دائر مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ امریکی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ ہارورڈ نے کیمپس میں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو مبینہ ہراسانی اور امتیازی سلوک سے مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا۔

الجزیرہ کے مطابق یہ مقدمہ مارچ میں امریکی محکمہ انصاف نے دائر کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ ہارورڈ کی انتظامیہ، فیکلٹی اور یونیورسٹی قیادت نے کیمپس میں یہود مخالف رویوں اور یہودی و اسرائیلی طلبہ کے ساتھ امتیاز کے واقعات پر آنکھیں بند کیے رکھیں۔

تاہم بوسٹن کے امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ اسٹیرنز نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ جج کے مطابق مقدمے میں جن واقعات کا حوالہ دیا گیا، وہ اس قدر محدود اور الگ الگ نوعیت کے تھے کہ ان کی بنیاد پر ہارورڈ میں شہری حقوق کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی کا دعویٰ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف امریکی جامعات میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان احتجاجی سرگرمیوں کے دوران متعدد جامعات پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ یہودی طلبہ کو ہراسانی اور مبینہ یہود مخالف رویوں سے بچانے میں ناکام رہیں۔

دوسری جانب فلسطین کے حامی مظاہرین اور احتجاجی تنظیموں نے ان الزامات پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض الگ تھلگ واقعات کو بنیاد بنا کر فلسطین کے حق میں ہونے والی سیاسی اور اظہارِ رائے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکی حکومت نے ہارورڈ کے خلاف مقدمے میں 1964 کے سول رائٹس ایکٹ کے ٹائٹل سکس کا حوالہ دیا تھا۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں میں نسل، رنگ اور قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں ہے۔

جج اسٹیرنز کے مطابق حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ ہارورڈ میں اس قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی تھی۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں زیادہ تر واقعات 2023-24 کے تعلیمی سال میں ہونے والے احتجاج سے متعلق تھے۔

یہ فیصلہ ہارورڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان جاری طویل تنازع میں یونیورسٹی کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ کے لیے تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی وفاقی فنڈنگ منجمد کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ یونیورسٹی نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے تحقیقاتی فنڈز کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

ایک وفاقی جج نے گزشتہ سال اس فنڈنگ منجمد کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ہارورڈ نے اس معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے نسبتاً سخت مؤقف اختیار کیا، جبکہ کچھ دیگر بڑی امریکی جامعات نے وفاقی حکومت کے ساتھ مالی معاہدے اور تصفیے کیے تاکہ ان کی وفاقی فنڈنگ بحال یا برقرار رہ سکے۔

اس پورے تنازع میں ایک بڑا سوال امریکی جامعات کی آزادی اور کیمپس میں اظہارِ رائے کی حدود کا بھی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو امتیازی سلوک اور ہراسانی سے محفوظ رکھیں۔ دوسری طرف ناقدین کا مؤقف ہے کہ شہری حقوق کے قوانین کو سیاسی احتجاج اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کو محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

امریکی ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز نے بھی گزشتہ سال اپنی ایک رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ پر شہری حقوق کے قوانین کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آزادیٔ اظہار محدود کرنے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔

امریکی قانون کے تحت وفاقی مالی معاونت حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں میں نسل، رنگ اور قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک ممنوع ہے۔ فیصلے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles