
امریکا کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو آئندہ ہفتے معاشی طور پر تنہا کرنے کے اقدامات کرنے جا رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مالی دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن تہران کو مزید معاشی نقصان پہنچانے کے لیے نئے اقدامات کرے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید اعلانات کے لیے تیار رہیں، کیونکہ ہم ایسے اقدامات کرنے جا رہے ہیں جو کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
اُدھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کے پاس ایران کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ پاناما کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہازوں کو ایک دوسرے کی جگہ تعینات کرکے خطے میں موجودگی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے، کیونکہ ہم بحری جہازوں کو باری باری خطے میں بھیجتے اور واپس لاتے رہیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی، عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کم ہو رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے جون میں ہونے والا عارضی معاہدہ اب شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس کے بعد ایران نے بھی امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی تھی۔ ایران کی جانب سے اس راستے میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
جمعرات کی شام متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ریاستی کمپنی ابو ظبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرون ملک بھی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے امریکی عوام میں بے چینی بڑھنے اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کئی مرتبہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر ”مکمل کنٹرول“ حاصل ہے، تاہم ایران اس دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر تجارتی آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کے مطالبات میں معاشی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔