
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ کردیا گیا، جس کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئی ہیں۔ ججز کی نئی تنخواہوں اور الاؤنسز کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے ہوگا۔
نئے پیکیج کے تحت چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی بنیادی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی۔
سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں 4 لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے۔
ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت الاؤنس میں تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوا ہے۔
سپریم کورٹ ججز کے پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں کردی گئیں، پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد بڑھا کر 75 سال کردی گئی۔ متعلقہ شق میں 85 سال کی حد بھی بڑھا کر 90 سال کردی گئی۔ سپریم کورٹ ججز کیلئے ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے میڈیکل الاؤنس بھی مقرر کردیا گیا۔
ہائی کورٹ ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، ہائیکورٹ ججز کی نئی تنخواہوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کردیا گیا، ہائیکورٹ کے دیگرججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہوگی۔
ہائیکورٹ ججز کی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار سے بڑھا کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے کی گئی، ہائیکورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ میں 1 لاکھ 10 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کردیا گیا۔
دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے نئی سہولت متعارف کرادی گئی، ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی۔ ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی مل سکے گی۔