کیرولین لیوٹ کی سُبک دوشی، ٹرمپ کے لیے نئے ترجمان کا انتخاب چیلنج کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کرولین لیویٹ نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ 28 سالہ لیویٹ نے کہا ہے کہ یکم مئی کو اپنی دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنے بچوں کو وہ وقت نہیں دے پا رہیں جو انہیں دینا چاہیے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے انہیں مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے دور نہیں کیا اور کہا ہے کہ وہ بطور بیرونی مشیر ان کے ساتھ کام جاری رکھیں گی۔

لیویٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس عہدے کے لیے جس کی مسلسل وقت، توانائی اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے ساتھ وہ اپنے بچوں کے لیے وہ ماں نہیں بن پا رہیں جو وہ بننا چاہتی ہیں۔

ٹرمپ نے لیویٹ کو اپنے سب سے قابلِ اعتماد معاونین میں شمار کیا ہے۔ ان کی رخصتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وائٹ ہاؤس اور امریکی میڈیا کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسی لیے سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی جگہ کسی نئے شخص کو لانا ٹرمپ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

ٹرمپ خود میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پوسٹس، انٹرویوز اور صحافیوں سے گفتگو کے ذریعے اپنے خیالات عوام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے بظاہر ایسا لگ سکتا ہے کہ انہیں پریس سیکریٹری کی زیادہ ضرورت نہیں۔ لیکن لیویٹ صرف صدر کی ترجمان نہیں تھیں بلکہ وہ ٹرمپ کے سیاسی انداز اور ان کے حامیوں کی زبان کو اچھی طرح سمجھتی تھیں۔

لیویٹ کی پریس بریفنگز میں عام طور پر حکومتی پالیسیوں کی تفصیل سے زیادہ ٹرمپ کے دفاع اور میڈیا پر سخت تنقید نظر آتی تھی۔ وہ صحافیوں کے سوالات کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے کئی بار ان کے سوالات یا ارادوں پر تنقید کرتی تھیں۔ ٹرمپ کے حامی ان کے اس انداز کو پسند کرتے تھے اور انہیں صدر کے سیاسی پیغام کی مؤثر آواز سمجھتے تھے۔

ٹرمپ کا سیاسی انداز بھی روایتی صدور سے مختلف رہا ہے۔ وہ اچانک پالیسی تبدیل کرنے، سخت بیانات دینے اور میڈیا کے ساتھ تنازع میں الجھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں انہوں نے روایتی میڈیا کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کا طریقہ اپنایا۔

لیویٹ اسی انداز کی ایک اہم نمائندہ بن گئی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کو ایسا شخص مل سکے گا جو ان کی سیاسی زبان، ان کے حامیوں کی توقعات اور میڈیا کے ساتھ صدر کی مسلسل لڑائی، تینوں کو ایک ساتھ سنبھال سکے؟

ان کے دور میں وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان ایک بڑا تنازع پریس رسائی کے معاملے پر بھی سامنے آیا۔ ان کی ٹیم نے وائٹ ہاؤس کے پریس پول کے نظام میں تبدیلیاں کیں اور روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ مقامی قدامت پسند ریڈیو میزبانوں، پوڈکاسٹرز اور ٹرمپ کے حامی میڈیا شخصیات کو بھی زیادہ جگہ دی۔

اس اقدام کو ٹرمپ کے حامیوں نے روایتی میڈیا کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش قرار دے کر سراہا، جبکہ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے وائٹ ہاؤس کے قریب ایسے میڈیا ادارے اور افراد آ سکتے ہیں جو صدر پر سخت سوالات اٹھانے کے بجائے ان کی حمایت کریں گے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ تنازع بھی لیویٹ کے دور کا اہم واقعہ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بعض وائٹ ہاؤس پریس ایونٹس میں اے پی کی رسائی محدود کر دی تھی۔ یہ تنازع خلیج میکسیکو کا نام ”گلف آف امریکا“ رکھنے کے ٹرمپ کے فیصلے سے بھی جڑا ہوا تھا، کیونکہ اے پی نے اپنے اسٹائل گائیڈ میں صدر کے حکم کے مطابق نام تبدیل کرنے سے انکار کیا تھا۔

کیرولین لیویٹ کی رخصتی پر امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن جیمز واکنشا نے سی این این کے پروگرام دی ایرینا میں کہا تھا کہ انہیں لیویٹ کے خاندانی وجوہات کی بنیاد پر استعفے کے فیصلے کی نیت پر شک نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ترجمان بننے کے لیے آپ کو روزانہ حقیقت سے آنکھیں چرانا پڑتی ہیں۔

ڈیموکریٹ رکن جیمز واکنشا کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں ان کی میراث وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کرنے کی ہوگی۔

تاہم لیویٹ کے بارے میں تصویر صرف کیمروں کے سامنے ہونے والی سخت بحث تک محدود نہیں تھی۔ صحافیوں کے مطابق وہ کیمروں سے دور اکثر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بہتر تعلق رکھتی تھیں اور انہیں صدر کے اہم فیصلوں کے وقت ٹرمپ کے قریب رہنے کا موقع بھی حاصل تھا۔ یہی قربت انہیں وائٹ ہاؤس کے اندرونی معاملات کو سمجھنے اور صحافیوں تک معلومات پہنچانے میں اہم بناتی تھی۔

اب خدشہ یہ ہے کہ اگر ٹرمپ ایسا جانشین مقرر نہیں کرتے جو پہلے ہی ان کے قریبی حلقے کا حصہ ہو تو نئے پریس سیکریٹری کے لیے صدر کی جانب سے فیصلوں اور پیغامات کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

عام طور پر وائٹ ہاؤس میں نائب پریس سیکریٹریوں کو مستقبل میں اعلیٰ عہدے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، لیکن لیویٹ کی جگہ لینے کے حوالے سے ابھی کوئی واضح جانشینی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles