
لیبیا میں زاوِیہ آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق آگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد افراد کو دھویں کے باعث طبی امداد فراہم کی گئی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق لیبیا کی ایمبولینس اور ایمرجنسی سروس نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ زیادہ تر متاثرہ افراد کو دھواں سانس کے ذریعے اندر جانے کی وجہ سے علاج کی ضرورت پڑی۔
الجزیرہ کی جانب سے تصدیق کی گئی ویڈیوز میں زاوِیہ ریفائنری کے اوپر بلند شعلے اور سیاہ دھویں کے گہرے بادل دیکھے گئے۔ یہ لیبیا کی سب سے بڑی فعال آئل ریفائنری ہے، جہاں روزانہ تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار بیرل خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ ریفائنری دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 40 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن (این او سی) نے فیس بک پر جاری بیان میں بتایا کہ آگ پیر کی شام بریگا آئل کمپنی کے ٹینک نمبر ٹی-402میں لگی۔ کمپنی کے مطابق اس ٹینک میں تقریباً 45 لاکھ لیٹر پیٹرول موجود تھا اور اسے براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی اور بالآخر ٹینک مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
این او سی کے مطابق زاوِیہ ریفائنری کو اس سے پہلے بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہفتے کے روز نَفْتھا کے ذخیرے اور اتوار کو ریفائنری کے پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر ڈرون حملوں کی اطلاع ملی تھی۔
نیشنل آئل کارپوریشن نے علاقے میں زیادہ سے زیادہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکام سے حملوں کی تحقیقات کرنے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ابھی تک کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی نیشنل آئل کارپوریشن نے کسی مخصوص فریق پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔
بعد ازاں این او سی نے بتایا کہ ریفائنری کو مسلسل تخریبی حملوں کا سامنا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایک اور ڈرون نے زاوِیہ آئل ریفائننگ کمپنی کے زیر انتظام تیل کی آمیزش اور بھرائی کے پلانٹ کو نشانہ بنایا۔
ڈرون مرکزی آئل ٹینک اور مقامی مارکیٹ کے لیے تیل تیار کرنے والی پائپ لائنوں کے قریب گر گیا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
این او سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو کمپنی کو فورس میجر کا اعلان کرنا پڑے گا، جس کے بعد ریفائنری میں کام معطل کیا جا سکتا ہے۔ فورس میجر سے مراد ایسی غیر معمولی صورتحال ہے جس میں کمپنی اپنے معمول کے کام جاری رکھنے سے قاصر ہو۔