
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کے عسکری ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے اعلیٰ عہدوں پر نئی تعیناتیوں کا اعلان کردیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے فروری میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار اتنی بڑے پیمانے پر عسکری تبدیلیاں کی ہیں۔
نئی تعیناتیوں کے مطابق، میجر جنرل علی عبداللّٰہی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ان کے نائب (ڈپٹی چیف) کے طور پر فرائض سرانجام دیں گے۔
اسی طرح احمد وحیدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر ایران کی انتہائی بااثر فورس، پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر ان چیف (سربراہ) مقرر کر دیا گیا ہے، اور مصطفیٰ ایزدی ان کے نائب کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس کے علاوہ، ریئر ایڈمرل علی عظمیٰئی کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کمانڈر بنایا گیا ہے، جبکہ حسین طائب کو بسیج فورس کے سربراہ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ان تعیناتیوں سے قبل، اتوار کو جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے، سپریم لیڈر نے پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔
اس حوالے سے سپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ یہ تقرری محسن رضائی کے عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کے دوران ابتدائی کمانڈر کے طور پر تجربے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
یہ عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں اور وہ عوامی منظر نامے سے غائب ہیں۔
ان افواہوں کے درمیان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر کے ساتھ تقریباً سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ”مکمل طور پر صحت مند“ ہیں۔ ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے ملک کی معیشت، عوامی گزر بسر اور امریکی پابندیوں کے اثرات پر بات چیت کی، جبکہ سپریم لیڈر نے ملک میں ”اتحاد اور یکجہتی“ کی ضرورت پر زور دیا۔