پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ‘مکّہ دفاعی معاہدہ’: کون کیا کچھ دے سکتا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جیو پولیٹیکل تبدیلیوں اور ایران پر امریکا و اسرائیل کی جنگ کے بعد خطے کا سیکیورٹی ڈھانچہ یکسر بدل رہا ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جسے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور اس میں یہ شق شامل ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ ان سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے ممالک طویل عرصے سے امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں اور اپنے دفاع کے لیے نئے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

اس تاریخی اتحاد میں شامل تینوں بڑی مسلم طاقتیں کیا کچھ دے سکتی ہیں اور کس کے پاس کیا صلاحیت ہے، اس کی تفصیلات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

ترک صحافی چیتنر چیتن کے مطابق اس اتحاد کی مجموعی اقتصادی طاقت تین ٹریلین ڈالرز کے لگ بھگ ہے اور ان کے پاس مشترکہ طور پر 20 لاکھ فوجی اہلکار، ایک ہزار جنگی طیارے، 7 ہزار ٹینک، 90 ہزار بکتر بند گاڑیاں اور 34 آبدوزیں موجود ہیں۔

انفرادی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس 170 نیوکلیئر وار ہیڈز یعنی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت اور وسیع فوجی تجربہ ہے، سعودی عرب کے پاس اوپیک کی قیادت، جی 20 کی رکنیت اور بے پناہ مالیاتی طاقت ہے، جبکہ ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج، جی 20 کی رکنیت اور ایک انتہائی جدید و خودکفیل دفاعی صنعت موجود ہے جو مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بہترین ہے۔

ماہرین اس معاہدے کو محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دے رہے ہیں۔

رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ کے فیلو کرسٹین کوٹس السریچسن کہتے ہیں کہ ”علاقائی ممالک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے امریکی سیکیورٹی پارٹنرشپ کی پائیداری پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔“

انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کے ایران کے خلاف فوجی آپریشنز اور اس کے بعد جنگ کے طریقہ کار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک اپنے سیکیورٹی تعلقات میں تنوع لا رہے ہیں۔ تاہم، نئے دفاعی معاہدوں کا مقصد انہیں امریکا کا متبادل بنانا نہیں بلکہ اضافی اسٹریٹجک اور پالیسی آپشنز حاصل کرنا ہے“۔

اسی طرح سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے تجزیہ کار سینا طوسی نے کہا کہ “یہ اس بات کی پہلی بڑی جیو پولیٹیکل علامت ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ خطے کے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے“۔

انہوں نے کہا کہ ”واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے سعودی عرب اب اپنے سیکیورٹی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، جو کہ اس پورے معاملے کا سب سے اہم نکتہ ہے“۔

بین الاقوامی کرائسز گروپ کی تجزیہ کار یاسمین فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ تینوں ممالک نے ہمیشہ کشیدگی کے خاتمے اور ثالثی کی بات کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”ان ممالک میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ تینوں علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔ اس معاہدے کی اہمیت دراصل ایک اخلاقی یا اصولی ڈیٹرنس قائم کرنا ہے تاکہ طویل مدتی اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دیا جا سکے“۔

اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمین نے پاکستان کے حوالے سے بتایا کہ “یہ معاہدہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی ڈھانچے میں مزید اہم کردار فراہم کرتا ہے“۔

انہوں نے کہا کہ ”یہ معاہدہ پاکستان جیسی مسلم اکثریتی اور ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست کو خطے میں مزید وقار اور اثر و رسوخ فراہم کرے گا، جس سے پاکستان کا عالمی سطح پر ایک مثبت تشخص ابھرے گا“۔

ترکیہ کے حوالے سے جرمین مارشل فنڈ کے ڈائریکٹر اوزگور اونلوہسارکیکلی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ”تینوں ممالک کے پاس تکمیلی طاقتیں ہیں، جن میں ترکیہ کی دفاعی صنعتی صلاحیتیں، سعودی عرب کی مالی طاقت اور پاکستان کا فوجی تجربہ اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس شامل ہیں“۔

اس معاہدے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔

ایران کے سینئر رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے ایکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ”سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذ پر کیا گیا معاہدہ انہیں سیکیورٹی نہیں دے سکتا، بالکل اسی طرح جیسے امریکیوں پر برسوں کے یکطرفہ انحصار نے انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا“۔

انہوں نے لکھا کہ ”اپنی پالیسیوں کو درست کریں تاکہ آپ کو دوسروں سے سیکیورٹی کی بھیک نہ مانگنی پڑے“۔

دوسری جانب، اسرائیل اور امریکا کی طرف سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں اسرائیلی حکام اس طرح کے اتحاد کو اپنے خلاف ایک بلاک کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔

اگرچہ عملی طور پر یہ سوالات اب بھی موجود ہیں کہ اگر کسی ایک ملک کی جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو کیا دوسرے ممالک اس میں براہِ راست کودیں گے یا نہیں، لیکن فی الحال یہ معاہدہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ایک بہت بڑا اسٹریٹجک ہتھیار ثابت ہوگا جس سے حملے کی قیمت دشمن کے لیے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles