
سعودی عرب نے رہائشی منصوبوں کے لیے زمین کی جزوی ملکیت کے نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سرمایہ کاروں کو نئے ہاؤسنگ پراجیکٹس تیار کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملک میں رہائشی منصوبوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ فیصلہ منگل کو جدہ میں ہونے والے سعودی کابینہ کے اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔
نئے فریم ورک کے تحت سرمایہ کاروں کو رہائشی منصوبے تیار کرنے کے لیے زمین کی جزوی ملکیت کے ماڈل کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس اقدام سے رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کو زیادہ سہولت اور لچک ملنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں جدید اور مکمل رہائشی کمیونٹیز کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ نظام پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور نجی شعبے کو ہاؤسنگ منصوبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
سعودی کابینہ نے کہا کہ یہ اقدام مملکت کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو جدید بنانے، نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے اور شہریوں کے لیے رہائش تک رسائی بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ پالیسی سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں ترقی اور معاشی تنوع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ملکیتی نظام سے ہاؤسنگ منصوبوں کی ترقی میں آسانی پیدا ہوگی اور رہائشی سہولیات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ تاہم، اس نظام پر عمل درآمد کی تاریخ، سرمایہ کاروں کے لیے اہلیت کے معیار اور دیگر تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔
حکام کی جانب سے آئندہ مرحلے میں اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد نئے نظام کے عملی طریقہ کار کی وضاحت ہو سکے گی۔