مودی کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا نے معافی مانگ لی

سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی فیس بک پوسٹ کو عارضی طور پر محدود کیے جانے پر بھارتی حکومت سے باضابطہ معذرت کر لی ہے۔ کمپنی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کپلان نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک انتظامی غلطی کے باعث ہوئی تھی اور اس پر حکومت سے معافی مانگ لی گئی ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جوئل کپلان نے اپنے بیان میں کہا، ”میں نے میٹا کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی پوسٹ محدود کیے جانے کی غلطی پر بھارتی وزیر سے معذرت کی ہے۔“

یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا کے حکام کو طلب کیا تھا۔ وزارت نے مودی کی فیس بک پوسٹ کچھ وقت کے لیے محدود کیے جانے پر وضاحت طلب کی تھی۔

لوک سبھا سیکریٹریٹ کی ڈائریکٹر اے جیوتھرمئی کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کی طلبہ اور جنرل زی سے متعلق خطاب کی ویڈیو کو فیس بک سے پانچ سے چھ گھنٹے کے لیے ہٹانا کمیٹی نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔“

اس موقع پر میٹا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پوسٹ غلطی سے ایک آپریشنل مسئلے کی وجہ سے محدود ہوئی تھی اور فیس بک نے اسے جان بوجھ کر نہیں روکا تھا۔

دوسری جانب بھارتی شہر حیدرآباد میں پولیس نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سری نواس کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق فیس بک پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مبینہ طور پر توہین آمیز انداز میں پیش کیا گیا، جس کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب بھارت میں قومی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک جاری تھی۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں بھارتی وزیر تعلیم کو بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی کو شدید تنقید، طنز اور مزاحیہ تبصروں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں میٹا اور بھارتی حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ایسے مواد پر جو وزیر اعظم نریندر مودی یا حکومت سے متعلق ہو۔

ادھر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے بھی بھارتی حکام سے ملاقات کے دوران کمپنی کے پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز اور دیگر انتظامی خامیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی ہے۔ تاہم اس حوالے سے میٹا نے باضابطہ طور پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ جولائی میں بھارتی حکومت نے میٹا کو انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اور اس کی تشہیر کرنے والے اشتہارات ہٹانے کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔ اس وقت میٹا نے اپنے ردعمل میں کہا تھا، ”بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے لیے ہماری پالیسی زیرو ٹالرنس پر مبنی ہے اور ہم ایسے مواد کی نشاندہی اور اسے ہٹانے کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔“

میٹا کی حالیہ معذرت کو بھارت اور دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی دباؤ اور مواد کی نگرانی سے متعلق جاری بحث کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles