
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، جب کہ تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپنی آئینی مدت ہر صورت پوری کریں گے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن اور آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی وزارت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو جوابدہ ہیں اور ان کی وزارت کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ جو نتائج سامنے آئیں انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سی وزارت کس حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاسوں میں ان کی حاضری تقریباً 70 فی صد رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بطور وزیر ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہر وزارت کی کارکردگی کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 80 برس سے رائج نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر ہوتا تو ملک آج کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ ان کے بقول صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات لانا ہوں گی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، تاہم نظام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی مسائل کا سامنا رہے گا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو نظام کی بہتری کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔