میر رضا علی قتل کیس: کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا


کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا جب کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے ایپل واچ ان لاک کرکے اہم ڈیٹا برآمد کرلیا ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ سندھ نے میر رضا علی کی ایپل واچ کامیابی سے ان لاک کرلی ہے۔ پولیس کو میر رضا علی کی ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا ملا ہے، جس میں لین دین کے حساب سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔
ایسٹ پولیس نے میر رضا کا موبائل فون اور گھڑی حاصل کی تھی جس سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا تھا، ملنے والے دونوں ثبوت کیس کے لیے اہم تھے۔
آئی فون اور ایپل واچ کو سی ٹی ڈی کے خصوصی سینٹر بھیجا گیا تھا تاہم ٹیکنیکل ٹیم سے تاحال آئی فون کا کوڈ کریک نہیں ہوسکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے ملنے والی معلومات کیس حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس پر مزید اہم معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں جب کہ تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔
پولیس نے میر رضا کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر لیا
دوسری جانب کراچی پولیس نے میر رضا کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، جس کی مدد سے ان کے آخری رابطوں، پیغامات اور مالی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو بھیجے گئے پیغام میں 3 کروڑ روپے ادھار دینے کی درخواست کی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پیغام میں مقتول نے خود کو مشکل میں قرار دیتے ہوئے فوری مالی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے کی رات میر رضا کی منگیتر نے بھی انہیں متعدد پیغامات بھیجے، تاہم مقتول کی جانب سے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کا قرض دار تھا۔ اسی تناظر میں پولیس نے میر رضا کے ساتھ مالی لین دین رکھنے والے تمام افراد کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سمیت کم از کم 15 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بھائیوں سمیت آٹھ افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو بھائیوں پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر افراد پر لاکھوں روپے کے واجبات تھے، اسی لیے ان تمام افراد سے مالی معاملات اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
تحقیقات میں شامل حکام کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سے چھ کا تعلق ایک گیسٹ ہاؤس سے ہے، جبکہ کرائم سین کے قریب سے گزرنے والے چار افراد کو بھی تحقیقات کے لیے پولیس تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق ہر ممکن معلومات حاصل کی جا سکیں۔
دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں نوجوان کی موت وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہل خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل، اس بارے میں تاحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا ہے جب کہ تمام شواہد، فرانزک رپورٹس، موبائل ڈیٹا، مالی معاملات اور عینی شواہد کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔
میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے دوران ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس نے تحقیقات میں اہم پیش رفت پیدا کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق ویڈیو میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی یہ چیز موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک شہری نے متعلقہ موبائل فون ملنے کی اطلاع دی اور پولیس کو اس مقام کی نشاندہی بھی کی۔ شہری کے مطابق اسے فون اسی جگہ سے ملا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو کوئی چیز پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیٹا حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے، جبکہ قتل کیس کے تمام پہلوؤں، مالی معاملات، رابطوں اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔
ان کے والد میر حسین علی نے بتایا تھا کہ میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خود کشی کی ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles