گزشتہ سال کس ملک کے زائرین نے سب سے زیادہ عمرے کیے؟

سعودی وژن 2030 کے بنیادی فریم ورک کے تحت جاری کردہ ’پلگرم ایکسپیرینس پروگرام‘ (پی ای پی) کی سالانہ رپورٹ 2025 منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس کے مطابق گزشتہ سال 1 کروڑ 80 لاکھ عمرہ زائرین سعودی عرب پہنچے جن میں سب سے زیادہ مصری جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستانی عمرہ زائرین تھے۔

”عزت اور اثرات“ کے عنوان سے جاری کردہ اس رپورٹ میں حج اور عمرہ زائرین سمیت حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آنے والوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کی بے مثال ترقی کا احاطہ کیا گیا ہے۔

سعودی وزارت برائے حج و عمرہ کے مطابق، پی ای پی پروگرام زائرین کے سفر کو ان کی روانگی کے منصوبے سے لے کر اپنے وطن واپسی تک زیادہ سے زیادہ آرام دہ، بابرکت اور یادگار بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران 60 سے زائد سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے 87 مختلف منصوبوں اور اقدامات پر کام کیا گیا اور ان تمام اقدامات پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔

گزشتہ سال کی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2022 کے مقابلے میں عمرہ زائرین کی تعداد میں 114 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں عمرہ زائرین کی ریکارڈ تعداد رہی، جہاں 1 کروڑ 80 لاکھ عمرہ زائرین سعودی عرب پہنچے جبکہ 1 کروڑ 60 لاکھ افراد نے مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ پر حاضری دی۔

اس ضمن میں عمرہ ویزوں پر آنے والے زائرین میں پاکستان، انڈونیشیا اور مصر سرفہرست رہے، اور سال بھر میں مجموعی طور پر 15.03 ملین ویزے جاری کیے گئے جن میں 83 فیصد ویزے صرف عمرہ کی غرض سے دیے گئے۔

رپورٹ کی روشنی میں حج زائرین کے اطمینان کی شرح 91 فیصد اور عمرہ زائرین کی شرح 94 فیصد درج کی گئی، جو وژن 2030 کے مقررہ اہداف سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، دینی اور ثقافتی آگاہی کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تاریخی اور مذہبی سائٹس کی تعداد بڑھا کر 87 کر دی گئی ہے جہاں 55 ملین سے زائد دورے کیے گئے تاکہ زائرین کا اسلامی تاریخ سے گہرا تعلق قائم ہو سکے۔

عوامی خدمات اور برادری کے تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ 2025 میں 1 لاکھ 84 ہزار 569 مرد اور خواتین رضا کاروں نے زائرینِ حرمین کی خدمت کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔

عالمی درجہ بندی میں بھی اس کے بہترین اثرات دیکھنے کو ملے ہیں جہاں عالمی سیاحت اور زائرین کی آمد کے لحاظ سے دنیا کے بڑے شہروں میں مکہ مکرمہ پانچویں اور مدینہ منورہ ساتویں نمبر پر آ گیا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ یہ تمام تر اصلاحات سعودی وژن 2030 کے خوابوں کو تعبیر دینے کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین اور اس کے زائرین کی خدمت کے لیے مملکت کے تاریخی اور مذہبی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles