
مشرقی وسطیٰ کی معاشی اور عسکری صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے خلیجی حکام اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے امریکا سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے ایک نئی اور وسیع حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا خیال ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری اس کشیدگی میں خطے کی تجارتی گزرگاہوں، بحری راستوں اور توانائی کی تنصیبات کو دباؤ کے مرکز میں بدل کر طویل عرصے تک مقابلہ کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کا مقصد کوئی حتمی فوجی فتح حاصل کرنا نہیں، بلکہ کشیدگی کو ایک طے شدہ حد میں رکھتے ہوئے اس کا دائرہ پھیلا کر امریکی دباؤ کو ناکام بنانا ہے تاکہ کسی بڑی جنگ کے بغیر ہی امریکا سے اپنی شرائط منوائی جا سکیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ تہران کی اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ باور کروانا ہے کہ بحران کو دبانے کی قیمت ایران کے مطالبات تسلیم کرنے سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔
ایران کا واضح پیغام ہے کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر تہران کے کردار کو قبول نہ کیا تو یہ تنازع خلیجی خطے سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر مائیکل نائٹس کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ ”ایران نے شروع سے ہی امریکا کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے اپنے اختیارات کا دائرہ کار پھیلایا ہے تاکہ ہر ہفتے اس کے پاس لانے کے لیے کچھ نیا ہو، جیسے نیا جغرافیہ، نئے ہتھیار یا نئے اہداف“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ایران کا بڑا فائدہ یہ نہیں کہ وہ امریکا یا اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ علاقائی ریاستوں اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں“۔
واضح رہے کہ عالمی توانائی کی مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن اب تہران نے یہ اشارہ دیا ہے کہ کوئی بھی سمندری گزرگاہ اس کے اثر سے محفوظ نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق، بحیرہ احمر اور سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات کو درپیش خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران عالمی تجارت کے تحفظ کی قیمت بڑھانا چاہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی جنگ میں نہ الجھنے کی خواہش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
رائٹرز نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ”ایرانیوں کا ماننا ہے جنگ کو وسعت دے کر اور دباؤ بڑھا کر وہ آخر کار ٹرمپ کو جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ ایرانیوں پر شدید حملہ کر کے انہیں مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں، لیکن ایرانی پیچھے نہیں ہٹیں گے“۔
تہران کی اسی سوچ پر ان کی مذاکراتی حکمتِ عملی مبنی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات طے ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہا۔
رپورٹ میں ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماضی میں لچک دکھانے کا نتیجہ صرف واشنگٹن کے مزید دباؤ کی صورت میں نکلا ہے، اس لیے معنی خیز مذاکرات سے پہلے اپنی طاقت اور دباؤ قائم کرنا ضروری ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل نائٹس کے مطابق ”ایرانی اپنے اس فائدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وہ آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور اس گزرگاہ پر انتخابی کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں“۔
سابق امریکی سفارت کار ایلن ایئر کا بھی کہنا ہے کہ تہران کی حکمتِ عملی کا مقصد امریکا کو بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور فوجی حملے روکنے پر مجبور کرنا ہے، ”وہ نہیں چاہتے کہ امریکا حالات کی رفتار طے کرے“۔
اس تنازع کا بنیادی نقطہ آبنائے ہرمز کا مستقبل ہے۔ عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں گزرگاہ کے استعمال پر رضاکارانہ فیس شامل ہے، لیکن ایران وہاں اپنا انتظامی کنٹرول اور خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا اختیار چاہتا ہے، جسے واشنگٹن نے صاف مسترد کر دیا ہے۔
امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہر رے ٹیکے کا کہنا ہے کہ ”اگر اب مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کی شرائط وہی (ایران) طے کریں گے، کیونکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کا جواب مسلسل دباؤ میں اضافے سے دے رہے ہیں“۔
ماہرین کے مطابق دونوں فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دباؤ بڑھانے کی یہ دوڑ ایک ایسے بڑے تصادم کا روپ دھار سکتی ہے جو کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔