ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے لوک و کلاسیکی گلوکار محمد باسط نعیمی پاکستانی روایتی موسیقی کے فروغ کے لیے 18 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یکم جنوری 1989 کو سعودی عرب میں پیدا ہونے والے محمد باسط نعیمی اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہیں اور گزشتہ 18 برس سے موسیقی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
محمد باسط نعیمی نے اپنی موسیقی کا سفر روایتی پاکستانی لوک اور کلاسیکی انداز کو اپناتے ہوئے شروع کیا۔ وہ عظیم صوفی گلوکار استاد نصرت فتح علی خان سے متاثر ہیں جن کی موسیقی آج بھی دنیا بھر کے فنکاروں کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے موسیقی کی تربیت صاحبزادہ محمد نعیم، خالد محمود اور اختر منیر جیسے معروف اساتذہ سے حاصل کی جن کی رہنمائی نے انہیں کلاسیکی موسیقی کی باریکیوں کو سمجھنے اور اپنی منفرد گائیکی کا انداز اپنانے میں مدد دی۔
اپنے فنی سفر کے دوران محمد باسط نعیمی نے مختلف ثقافتی پروگراموں، میلوں، تقریبات اور نجی محافل میں پرفارم کیا، جہاں ان کی روایتی موسیقی سے وابستگی کو سراہا گیا۔
ان کی گائیکی میں کلاسیکی راگوں کے ساتھ علاقائی لوک دھنوں کی جھلک بھی نمایاں ہے جو پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافتی رنگا رنگی کو اجاگر کرتی ہے۔
محمد باسط نعیمی نے جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی موسیقی کو عام کرنے کے لیے سماجی رابطوں کے ذرائع کا بھی استعمال کیا جس کے باعث ان کا فن پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچا۔
ان کے سماجی رابطوں کے پیجز پر لاکھوں افراد ان کی موسیقی سے جڑے ہوئے ہیں جب کہ ان کے گیتوں کو بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے پسند کیا ہے۔
ان کا مشہور گیت ’’ماشاءاللہ‘‘ خاص طور پر مقبول ہوا جسے شائقین موسیقی کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور اس نے انہیں مزید شہرت دی۔
محمد باسط نعیمی کا کہنا ہے کہ موسیقی ان کے لیے صرف پیشہ نہیں بلکہ ثقافت، تاریخ اور جذبات کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی موسیقی ہماری پہچان ہے اور فنکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔
موسیقی کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی لوک اور کلاسیکی موسیقی ملک کے ثقافتی تشخص کا اہم حصہ ہے، ایسے فنکار اس ورثے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
محمد باسط نعیمی کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ذرائع بدل سکتے ہیں لیکن موسیقی کے جذبات ہمیشہ قائم رہتے ہیں، وہ مستقبل میں بھی گائیکی، نئے فنکاروں کے ساتھ تعاون اور پاکستانی موسیقی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔