غزہ امن بورڈ کا 15 نکاتی روڈ میپ جاری؛ اسرائیل میں تحفظات کے باوجود امریکا کی حماس کو ضمانتیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت قائم ’غزہ امن بورڈ‘ نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد نافذ کرنے کے لیے 15 نکاتی روڈ میپ شائع کر دیا ہے، جس میں فریقین کے ملٹری اقدامات کا خاتمہ، حماس کا مرحلہ وار غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا شامل ہے۔

منصوبے کے مطابق فریقین 14 دن کے اندر اس کی منظوری دیں گے اور اگلے مرحلے میں داخلہ پچھلے مرحلے کی واضح تصدیق اور بین الاقوامی کمیٹی کی مانیٹرنگ سے مشروط ہوگا۔

غزہ کے تمام انتظامات کے لیے فلسطینیوں کی ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ قائم ہوگی جو ایک ہی قانون، ایک ہی اتھارٹی اور ایک ہتھیار کے اصول کے تحت امور چلائے گی۔

اس عمل کے دوران سیکیورٹی کے قیام، سویلین پولیس کی تربیت اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس عارضی طور پر تعینات کی جائے گی جو خود پولیس کے فرائض انجام نہیں دے گی۔

عرب خبر رساں ادارے ’العریبیہ‘ کے مطابق، حماس نے اس روڈ میپ پر اصولی اتفاق کر لیا ہے تاہم اسے اسرائیلی رعایتوں اور جارحیت کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، حماس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ”معاہدے کے فریم ورک میں بھاری اسلحے کے معاملے کو شامل کرنے کی منظوری کو ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے، غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے انخلا، ابتدائی بحالی کے حصول، انتظامی کمیٹی کی آمد اور بین الاقوامی حفاظتی افواج کی تعیناتی سے جوڑا گیا ہے“۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے حماس کو یہ ضمانت پیش کی ہے کہ واشنگٹن باہمی عمل درآمد کے اصول کی پاسداری کرائے گا اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”کسی کو یقین نہیں تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاہدہ ممکن ہو سکے گا“۔

وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایران کے معاملے میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ اگر چار یا پنج ماہ پہلے کی بات کریں تو ایسے معاہدے تک پہنچنا ناممکن دکھائی دیتا تھا“۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ”اسرائیل اس معاہدے سے بہت خوش ہے اور امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مکمل افہام و تفہیم موجود ہے“۔

اس کے برعکس، اسرائیلی حکومت کے اندر سے اس منصوبے کی شدید مخالفت سامنے آ رہی ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اس روڈ میپ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا۔

بن گویر نے اپنے ایک تبصرے میں کہا کہ ”سات اکتوبر کے واقعات کے بعد حماس کا ہر رکن ایک جائز نشانہ بن چکا ہے، اور حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے سے روکنے کی پابندی تحریک کو اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع فراہم کرے گی“۔

انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے سے قبل اسرائیلی فوج موجودہ حدود سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے ابھی تک اس پر کوئی علانیہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles