
اٹلی کے جنوبی شہر نیپلز کے قریب واقع کیمپی فلیگری کے علاقے میں جمعے کی شام 4.7 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، ٹرین اور میٹرو سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی جبکہ بعض عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
اٹلی کے قومی ادارہ برائے ارضیات و آتش فشانیات کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 46 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مرکز نیپلز کے مغرب میں واقع کیمپی فلیگری کا آتش فشانی علاقہ تھا، جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 3 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
اطالوی فائر سروس کے مطابق نیپلز اور اس کے گرد و نواح میں بعض عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم کسی رہائشی کو بچانے یا ہنگامی امداد کے لیے فوری درخواست موصول نہیں ہوئی۔
مقامی حکام نے احتیاطی تدابیر کے تحت ریلوے اور میٹرو سروس عارضی طور پر معطل کر دی، جبکہ مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کیمپی فلیگری کے علاقے میں ریکارڈ کیے جانے والے طاقتور زلزلوں میں سے ایک تھا۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی متعدد علاقوں کے رہائشی گھروں سے نکل کر کھلے مقامات پر آ گئے۔
کیمپی فلیگری ایک گنجان آباد آتش فشانی کیلڈیرا ہے جو مغربی نیپلز کے بڑے حصے پر محیط ہے۔ حالیہ برسوں میں یہاں زلزلوں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث اطالوی حکومت نے نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس علاقے میں معمولی زلزلے آنا معمول کی بات ہے، تاہم حالیہ نسبتاً شدید جھٹکوں نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں آنے والے زلزلوں کی یاد تازہ کر دی ہے، جن کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے تھے۔
اٹلی زلزلہ خیز ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2016 میں وسطی اٹلی میں آنے والے طاقتور زلزلوں نے لازیو، امبریا اور مارکے کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 300 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
حالیہ دہائیوں کا مہلک ترین زلزلہ نومبر 1980 میں جنوبی اٹلی کے ارپینیا علاقے میں آیا تھا، جس کی شدت 6.9 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس سانحے میں تقریباً 2,700 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سیکڑوں قصبے اور شہر شدید متاثر ہوئے۔