
بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی، جس کے باعث 11 کان کن جاں بحق جب کہ 3 افراد کو زندہ نکال لیا گیا جب کہ کان کے اندر پھنسے دیگر 28 مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
جمعرات کو کوئٹہ میں سورینج کے نواحی علاقے اسپین کاریز میں ایک کوئلہ کان میں گیس کے باعث دھماکا اور کان بیٹھنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 42 کان کن مٹی تلے دب گئے جب کہ اب تک 11 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
دوسری جانب کوئلہ کان کے مالک قربان جوگیزئی نے بتایا کہ 3 افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے جب کہ دیگر 28 کان کنوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کان میں دھماکا میتھین گیس جمع ہونے کے باعث ہوا۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر آف مائنز، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ کے ذریعے گیس کے اخراج اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
میر شعیب نوشیروانی کے مطابق حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو جلد از جلد بحفاظت نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے، حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔