
امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میان جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے العریبہ کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے جوابات سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے کہ کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا ’چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی ردعمل پر مبنی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔‘
العریبیہ کے مطابق پاکستان اور قطر نے گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر، مصر، پاکستان اور دیگر ممالک نے بھی واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی ایک نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کی دو بنیادی شرائط میں دونوں جانب سے حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی بحالی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہوگا جب کہ ایرانی سمندری حدود میں واقع شمالی بحری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی۔