امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کو جوہری ری ایکٹر کی تعمیر اور یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت اور ٹیکنالوجی دے گا۔ یہ معاہدہ سامنے آنے کے بعد اسرائیل کو تشویش ہونے لگی ہے۔ اسرائیلی میڈیا اس پیش رفت کے بعد خطے میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا واویلا کرنے لگا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا ممکنہ اختیار فراہم کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ توانائی نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پرامن جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے عام طور پر ’معاہدہ 123‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوطرفہ حفاظتی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔
اس معاہدے پر امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کی صورت میں ہی نافذ العمل ہوسکے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یا کسی وزیر نے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم اسرائیل کے متعدد رہنماؤں نے اس معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیراعظم اور اگلے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ نیتن یاہو حکومت کی سنگین ناکامی ہے جو اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور خطرناک صورت حال کو جنم دے سکتی ہے۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو امریکی کانگریس پر زور دینا چاہیے کہ وہ اس کی منظوری نہ دے۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا معاہدہ کئی برسوں سے زیر غور تھا جس پر صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت اور بعد ازاں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی کام جاری رہا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوا تو اسے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں وہ چین یا روس کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تاہم اس معاہدے میں یو اے ای کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 22 جولائی 2026 کو ہونے والے اس تاریخی جوہری معاہدے کی منفرد بات یہ ہے کہ اس میں سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کرنے کا ممکنہ راستہ فراہم کیا گیا ہے، جس کی ماضی میں امریکا سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔
امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق اس معاہدے سے امریکا میں بہتر معاوضے والی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی اور قومی سلامتی کے شعبوں کو تقویت ملے گی، جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔