حوثیوں کی دھمکی؛ سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹنے پر مجبور

یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کا سمندری محاصرہ کرنے اور سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر سے ایشیا جانے والے سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز منگل کے روز واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔

حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ کوئی بھی جہاز جو سعودی تیل لوڈ یا ان لوڈ کرے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔

اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا ہے، لیکن اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہم اس سے نمٹ لیں گے“۔

اس تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد سے زائد بڑھ کر 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

جنگ کا دائرہ کار خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں ایران، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی عسکری اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 50 عام شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ امریکی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹھ نے سینیٹ کی سماعت میں بتایا کہ اس جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر کے اخراجات آ چکے ہیں اور انہوں نے میزائلوں کے ذخائر کو دوبارہ پورا کرنے کے لیے مزید 70 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔

اس تمام تر کشیدگی کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کر کے اسلام آباد سے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles