پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے تباہی، 14 افراد جاں بحق


پنجاب سمیت ملک کے بالائی حصوں بالخصوص خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ہزاره ڈویژن میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مختلف حادثات میں 7 بچوں سمیت 14 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے، پشاور سمیت کئی اضلاع میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا، بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مون سون تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث اب تک 12 افراد جاں بحق جب کہ 18 افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 5 مرد، 5 بچے اور 2 خواتین جب کہ زخمیوں میں 10 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں، بارشوں کے باعث 3 گھر منہدم اور 15 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
پشاور میں موسلا دھار بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، بارش کے باعث شہر بھر میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہونے سے درجنوں فیڈر ٹرپ کر گئے۔ ریسکیو 1122 نے نوشہرہ کے صاحبزادہ ٹاؤن اکوڑہ خٹک میں سیلابی ریلے سے محصور 12 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا جب کہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے 6 افراد بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے۔

مانسہرہ، ناران، کاغان اور بالاکوٹ میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، سہوج میں لینڈ سلائیڈنگ کے سڑکیں بند ہوگئیں۔ کے ڈی اے حکام نے جھیل سیف الملوک روڈ کو بحال کردیا، جھیل سیف الملوک سے واپس آنے والی گاڑیوں کو نکال لیا گیا جب کہ دیگر سڑکیں کھولنے پرکام جاری بدستور جاری ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں آج دوسرے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔ بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ شہریوں نے ٹھنڈے موسم پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ضلع اٹک اور گردونواح میں گزشتہ 12 گھنٹوں سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے، موسلا دھار بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جبکہ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا اور گرمی کی شدت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ روز مردان میں مکان کی چھت گرنے سے 2 بچے زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی ماں اور بہن شدید زخمی ہوئیں جب کہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے 3 افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ دوسری طرف وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث آنے والی طغیانی نے 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ کر دیے جس سے تقریباً 25 ہزار کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
شدید بارشوں کے باعث نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور صاحبزادہ ٹاؤن میں فلیش فلڈ کی صورت حال پیدا ہو گئی، جہاں ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس کے علاوہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے مزید چھ افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔
اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے تمام کارروائی کی خود نگرانی کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر بھی موقع پر موجود رہے۔
ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔
ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے“۔ یہاں تک کہ اسلام آباد کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورت حال ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
این ڈی ایم اے کا الرٹ
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں جب کہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
موسم کی عمومی صورت حال کے مطابق خیبرپختونخوا کے اکثر اضلاع میں مطلع ابر آلود ہے، جہاں پشاور میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی 82 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں طوفانی بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیور کے علاقے میں ایک مکان لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔
آزاد کشمیر کے رہائشی علاقے قندیل کالونی کی حفاظتی دیوار ٹوٹنے سے قریبی آبادی متاثر ہوئی جب کہ نالہ ماہل کے قریب واقع شیخ بستی کے متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ باغ کے مرکزی پل کے نیچے قائم کئی دکانیں طغیانی کی نذر ہوگئیں جب کہ ایک رابطہ سڑک کا حصہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش
پنجاب کے شہر پاکپتن کے نواحی علاقے 33 ایس پی میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور ان کی والدہ زخمی ہوگئیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں 7 سالہ بچہ عثمان اور 9 سالہ نور فاطمہ بچی شامل ہیں جب کہ بچوں کی ماں کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
گجرات میں موسلا دھار بارش کے بعد شہر ایک بار پھر پانی میں ڈوب گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کچہری چوک، جناح چوک، علی پورہ روڈ، پرنس چوک، جلالپور جٹاں روڈ اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جس سے ہر طرف دریاؤں جیسا منظر دکھائی دیا۔ واسا کی مشینری نکاسی آب کے لیے متحرک کردی گئی ہے تاہم کئی علاقوں میں آمدورفت شدید متاثر رہی۔
منڈی بہاؤالدین شہر اور گردونواح میں گزشتہ 6 گھنٹوں سے وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جب کہ سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں۔ کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا، جس سے شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے ساتھ ہی متعدد علاقوں کے بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔
پنجاب کے ضلع شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں موسلا دھار بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ تاہم شدید گرمی سے نڈھال شہریوں نے بارش کے بعد سکھ کا سانس لیا اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوئے۔
ضلع شکر گڑھ میں بھی کرتارپور اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت کم ہوگئی۔ بارش شروع ہوتے ہی واپڈا کے کئی فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے دوسرے اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک الرٹ جاری ہے اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی ہلکی اور تیز بارش نے موسم کا مزاج بدل دیا۔ مال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، گڑھی شاہو، ریلوے اسٹیشن اور بادامی باغ سمیت مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد گرمی اور حبس میں نمایاں کمی آگئی اور شہریوں نے خوشگوار موسم کا خیرمقدم کیا۔

وزیرآباد اور علی پور چٹھہ سمیت مضافاتی علاقوں میں موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کئی علاقے زیر آب آگئے۔ بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر بھی بند ہوگئے، جس سے شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔
ملکوال شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ کئی نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جس سے متاثرہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ آئندہ چند روز تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بجلی کے نظام میں خلل کا بھی خدشہ ہے۔
ادھر تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے سندھ میں اٹک کے مقام پر سطح بلند ہو گئی ہے جہاں دریا کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک دریائے چناب، جہلم اور کابل میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles